خطابات — Page 47
47 کرے۔خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اگر اس جماعت میں سے کوئی تجھے چھوڑ کر مرتد ہو جائے گا تو میں اس کے بدلے تجھے ایک جماعت دوں گا۔پھر آپ نے فرمایا کہ: 66 ” کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھانا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔یہ کام تو ایک ملا بھی کر سکتا ہے اس لئے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔بیعت وہی ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور جس میں خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے ہے پس یہ خطاب آپ کا ایسا جلالی تھا کہ کہنے والے کہتے ہیں ، بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ مختلف جماعتوں سے جو سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جمع تھے اور جن پر خلافت کے مخالف اپنا اثر ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے انہوں نے انتہائی کرب اور درد سے رونا شروع کر دیا اور مسجد کے فرش پر اس طرح تڑپتے رہے جیسے پانی کے بغیر مچھلی تڑپتی ہے۔پس یہ ہے جماعت احمدیہ میں خوف کی حالت کو امن میں بدلنے کا پہلا جلوہ جو جماعت کے افراد پر بھی ظاہر ہوا اور خلیفہ وقت کی ذات میں بھی ایک شان سے نظر آیا۔بغیر کسی خوف اور خطرہ کے حضرت خلیفہ اول نے یہ اعلان فرمایا کہ اگر کوئی مرتد ہوتا ہے تو ہو جائے خدا تعالیٰ مجھے اس کے بدلہ جماعت عطا کرے گا۔ایک شخص جب جائے گا تو ایک جماعت ملے گی۔پس جہاں مخلصین کی اصلاح آپ کے اس اعلان سے ہوئی اور مخلصین کے ایمان کے بڑھنے کا موجب ہوئی ، وہاں ان منافقین کا گروہ بھی کچھ وقت کے لئے دب گیا اور جماعت ترقی کی منزلیں طے کرتی چلی گئی۔الفضل 11 اپریل 1914 ء صفحہ 11 کالم 3۔بحوالہ تاریخ احمدیت۔مؤلفہ مولانا دوست محمد شاہد۔جلد 3 صفحہ 262 مطبوعہ 2007ء- نظارت نشر و اشاعت قادیان، بھارت