خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 110

خطابات — Page 40

40 پہلے پوری ہوئی اور نہ آج پوری ہوگی۔آج تو یہ مخالفین بے چارے جماعت کی ترقی دیکھ کر اتنے حواس باختہ ہو چکے ہیں کہ ایک طرف تو یہ بات کرتے ہیں کہ ہم نے احمدیت کو ختم کر دیا اور ساتھ ہی یہ بیان دیتے ہیں، اسلامی حکومتوں پر زور دیتے ہیں کہ اسلامی حکومتیں قادیانیت کی پیش قدمی کو روکیں ورنہ یہ لوگ ساری امت مسلمہ کو گمراہ کر دیں گے۔بہر حال یہ تو اُن کی باتیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی وفات کے بعد کس کس طریقہ سے انہوں نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی اس کے بھی ایک دو واقعات سن لیں۔مولوی ثناء اللہ نے لکھا کہ مرزا (حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) انہوں نے اپنی زبان میں لکھا کہ " مرزا صاحب کی کل کتابیں کسی سمندر میں نہیں کسی جلتے تنور میں جھونک دیں۔اسی پر بس نہیں بلکہ آئندہ کوئی مسلم یا غیر مسلم مؤرخ تاریخ ہند یا تاریخ اسلام ان کا نام تک نہ لے لے خواجہ حسن نظامی صاحب جو بظاہر بڑے سنجیدہ طبع اپنے میں مست رہنے والے آدمی تھے ، وہ احمدیوں کو مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ مرزا صاحب کے دعویٰ مسیحیت اور مہدویت سے صاف انکار کر دیں ورنہ اندیشہ ہے کہ مرزا صاحب جیسے سمجھدار اور منتظم شخص کی عدم موجودگی کے سبب احمدی جماعت مخالفین کی شورش کو برداشت نہ کر سکے گی اور اس کا شیرازہ بکھر جائے گا“۔ہے اخبار وکیل امرتسر۔13 جون 1908ء۔بحوالہ الحکم نمبر 39 جلد 12۔18 جون 1908ء۔صفحہ 8 کالم نمبر 1 و تاریخ احمدیت۔مؤلفہ مولانا دوست محمد شاہد۔جلد 3 صفحہ 205-206 مطبوعہ 2007ء - نظارت نشر و اشاعت قادیان۔بھارت پیسہ اخبار۔لاہور۔5 جون 1908ء۔بعنوان ” قادیانی مشن بحوالہ اخبار بدر جلد 7 نمبر 24 مؤرخہ 18 جون 1908 ، صفحہ 13 کالم 2-3 و تاریخ احمدیت۔مؤلفہ مولانا دوست محمد شاہد۔جلد 2 صفحہ 554۔مطبوعہ 2007ء- نظارت نشر و اشاعت قادیان۔بھارت