خطابات — Page 16
16 اس پچیس سالہ جو ان کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور اس نے جماعت کی تنظیم تبلیغ، تربیت، علوم و معرفتِ قرآن میں وہ مقام پیدا کیا کہ کوئی اس کے مقابل ٹھہر نہ سکا۔جماعت پر پریشانی اور مخالفتوں کے بڑے دور آئے لیکن خلافت کی برکت سے جماعت ان میں کامیابی کے ساتھ گزرتی چلی گئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے باون سالہ دور خلافت کے حالات پڑھیں تو پتہ چلے کہ اس پسر جری اللہ نے کیا کیا کار ہائے نمایاں انجام دیئے۔دنیائے احمدیت میں حضرت مصلح موعودؓ کی وفات کے بعد پھر ایک مرتبہ خوف کی حالت طاری ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اسے چند گھنٹوں میں امن میں بدل کر قدرت ثانیہ کے تیسرے مظہر کا روشن چاند جماعت کو عطا فرمایا۔حکومتوں کے ٹکرانے کے باوجود، ظالمانہ قوانین کے اجراء کے بعد تمام مسلمان فرقوں کی منتظم کوشش کے باوجود، یہ قافلہ ترقی کی منزلیں طے کرتا چلا گیا۔پیار ومحبت کے نعرے لگاتا ہوا، غریب اقوام کے غریب عوام کی خدمت کرتے ہوئے ، انہیں رسول عربی ﷺ کا پیغام پہنچاتے ہوئے آپ کے جھنڈے تلے جمع کرتا چلا گیا۔پھر وہ وقت آیا کہ الہی تقدیر کے ماتحت حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ بھی اپنے پیدا کرنے والے کے حضور حاضر ہو گئے۔پھر اندرونی اور بیرونی فتنوں نے سراٹھایا لیکن خدائی وعدہ کے مطابق جماعت احمدیہ کو خلافت رابعہ کی صورت میں تمکنت دین عطا ہوئی۔ہر فتنہ اپنی موت آپ مر گیا۔ظالمانہ قانون کے تحت ہاتھ پاؤں باندھنے والوں“ اور ” احمدیت کے کینسر کو ختم کرنے کا دعوی کرنے والوں کو خدا تعالی نے نیست و نابود کر دیا۔پاکستان میں ظالمانہ قانون کی وجہ سے خلیفہ وقت کو