خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 92

خطابات طاہر جلد دوم صلى الله 92 92 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء ایک ہمارے دوست جو کلمے کی خاطر قید میں گئے وہ اچھا لکھ لیتے تھے انہوں نے بہت خوشخط کر کے جیل کی دیواروں پہ بھی کلمہ لکھ دیا اور سزا پتہ کیا ہے؟ بیڑیاں ڈال کر ان کو الگ لٹا دیا گیا کہ اے ظالم بد بخت تو محمد رسول اللہ ہے اور خدا کی توحید کا کلمہ لکھتا ہے، تیری سزا یہ ہے کہ تجھے بیڑیاں ڈالی جائیں۔پہلے ہتھکڑیاں تھیں پھر بیٹریوں کا اضافہ ہوا اور وہ ہیں جو ان کی موجیں لے رہے تھے اور مزے لوٹ رہے تھے یہ ان کا تاثر تھا۔پھر کلمے کی خاطر مارنا پیٹنا، بعض لوگوں کے رحیم یارخان سے خط ہیں کہ ڈنڈے مار مار کر سارا جسم لہولہان کر دیا کہ تم نے کلمہ کیوں لکھا ہوا ہے۔وہ ساری یادیں تازہ کر رہے ہیں جو حضرت محمد مصطفی اے کے آغاز کی یادیں تھیں۔ایک جگہ ایک 17 سالہ نوجوان لکھتا ہے کہ مجھے جب یہ سعادت نصیب ہوئی تو ساری رات تو ہمیں حوالات میں رکھا، پھر آ کے ہتھکڑیاں پہنائی گئیں اور ہم تو کہتے ہیں حیران تھے ہمیں تو نیند بھی نہیں آتی تھی۔عجیب وغریب مجرموں کی شکلیں تھی ، ہم نے کہا ہم بیچ میں کہاں سے آگئے۔وہ مخلوق ہی اور لگتی تھی جرائم پیشہ اور ان کو بھی تعجب ہوتا تھا کہ یہ کس قسم کی مخلوق ہماری جیل میں آگئی ہے لیکن ان میں اکثر کا رویہ تو بہت ہی اچھا رہا ہے۔جو جیل کے قیدی اور بڑے بڑے ان میں سے جرائم پیشہ بھی تھے کلمے کے معاملے میں آکر ان کے دل بدلے ہیں اور بعضوں نے بیعتیں کیں وہاں اور جیسا کہ میں نے کہا ہے سنت یوسفی تازہ ہوئی ہے۔جو ہمارے ساہیوال کے معاملے میں ملوث ہیں، ابھی کل ہی ان کی اطلاع ملی ہے کہ ان کی تبلیغ سے بھی خدا کے فضل سے اسی ساہیوال جیل میں ایک احمدی ہو گیا ہے۔کیا کرلیں گے ، کہاں کہاں یہ پہنچیں گے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ایک بدمعاش لڑکا تھا اس کو بلایا اور کہا کہ اس کو ٹھوکریں مارو بوٹ پہن کے۔اس نے ہم لڑکوں کو خوب ٹھوکریں ماریں۔کہتے ہیں ہم خدا کا شکر ادا کرتے رہے۔الحمد اللہ خدا کی خاطر ہے کوئی اس بات کی پر واہ بھی نہیں کی۔ایک صاحب مکرم عبدالشکور صاحب فیصل آباد سے لکھتے ہیں ذرا دیکھئے ماحول کیسا ہے وہاں، جیل میں بیٹھ کر اپنے پیارے آقا کو خط لکھنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔جیل میں خاکسار، میرا چھوٹا بھائی ، ایک احمدی دوست اکٹھے آئے ہیں۔ہمارے آنے سے پہلے بھی ماشاء الله خدام بھائی جیل میں موجود تھے۔ہماری جیل میں آمد پر خدام بھائیوں نے جب کلمہ طیبہ کا بلند آواز سے ورد