خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 515
خطابات طاہر جلد دوم 515 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء ضائع جاتا ہے اور وہ سارا ڈسٹ بنز (Dust Bins) میں پھینک دیتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ سمندری جہازوں میں بھی یہی دستور ہے۔ہوائی جہازوں میں بھی یہی دستور ہے۔اگر یورپ کا کھانا اور امریکہ کا کھانا جو پھینکا جاتا ہے غریب ملکوں میں تقسیم ہو سکتا ہو تو پورے افریقہ کے لئے ایک سال کی غذا کا موجب بن سکتا ہے۔تو دیکھو Waste نہ کئے جانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا کتنا بنیادی فائدہ ہے۔لڑائی جھگڑوں سے پر ہیز رکھیں۔فضول بحثوں میں نہ الجھا کریں۔کارکنان سے تعاون کیا کریں۔جہاں تک حفاظت کا تعلق ہے اصل حفاظت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے مگر میرا تجربہ ہے کہ جب بھی کوئی جلسہ کا وقت قریب آنے والا ہولوگوں کو بڑی ڈراؤنی خوا میں آتی ہیں اور مجھے لکھ لکھ کر بھیجتے ہیں کہ احتیاط کریں۔اب میری احتیاط اور کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے جو حفاظت کرنے والا ہے۔مجھے قطعاً کوئی پروا نہیں کہ خدا کی راہ میں مجھے کیا در پیش ہو لیکن حفاظت کے لئے ایک اصول میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔ہر جلسے پر بیان کیا کرتا ہوں کہ ہر آدمی اپنے گرد و پیش پر گہری نظر رکھے اور اگر کسی کو اجنبی دیکھے اور یہ محسوس کرے کہ اس اجنبی میں کچھ غیریت پائی جاتی ہے اس کی حرکتوں سے لگتا ہے کہ خطرہ کا موجب ہو گا اس پر نظر رکھیں اس سے بہتر اور کوئی حفاظتی اقدامات نہیں ہو سکتے اپنے گرد و پیش پر نظر رکھیں اور خیال رکھیں کہ کسی قسم کی شرارت نہ ہونے دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ کی اغراض میں یہ بھی فرمایا ہے کہ باہمی مودت پیدا ہو۔دور دور سے لوگ آتے ہیں اور آپ کے ملک میں اس وقت سب دنیا سے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں۔ان سے محبت اور پیار سے ملیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس حکم کی اطاعت کریں۔سفر کے متعلق بارہا میں کہہ چکا ہوں کہ احتیاط برتیں۔اگر نیند غالب ہو تو سفر نہ کیا کریں۔نوکری جانے کا بھی خطرہ ہو تو نوکری جانے دیں۔جان نہ جانے دیں اور ہمیں پھر اس کا دُکھ پہنچتا ہے۔مرنے والا تو گزر جاتا ہے لیکن پچھلوں کو اس کا دُکھ پہنچتا ہے اس لئے بہت سی چیٹیں ایسی کاروں کے سامنے لگائی جاتی ہیں کہ جس میں احتیاط سے سفر کرنے کی تاکید ہوتی ہے۔جو اللہ کی طرف سے تقدیر ہو اس کا تو کوئی علاج نہیں۔کاریں پھسل بھی جاتی ہیں۔دوسرے ڈرائیوروں کی غلطی سے بھی فکر لگ جاتی ہے۔تو جہاں تک تقدیر الہی کا تعلق ہے اس سے تو ہر گز لڑا نہیں جاسکتا لیکن جہاں تک احتیاط