خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 510

خطابات طاہر جلد دوم 510 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء کے حسن کا سر چشمہ تو وہی ذات بابرکات ہے۔کوئی خوبی اگر کسی میں ہے تو اس کا پیدا کرنے والا وہی اللہ ہے۔اسی طرح اگر تم کسی کی اس لئے اطاعت کرتے ہو کہ وہ حسن ہے تو سب محسنوں سے بڑا محسن تو اللہ ہے جس نے تمہارے محسن کو بھی سب سامان اپنی جناب سے دیا اور پھر اس سامان سے تمتع حاصل کرنے کا موقعہ اور قومی بھی اسی کے دیئے ہوئے ہیں۔اگر کسی کی طاعت اس لئے کرتے ہو کہ وہ بادشاہ حکمران ہے تو تم خیال کرو اللہ وہ احکم الحاکمین ہے جس کا احاطہ سلطنت اس قدر وسیع ہے کہ تم اس سے نکل کر کہیں باہر نہیں جاسکتے۔“ چنانچہ فرماتا ہے: يُمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَنِ (الرحمن : ۳۴) یہ دنیا کے حاکم تو یہ شان نہیں رکھتے۔جب ان کی اطاعت کرتے ہو تو پھر اس احکم الحاکمین کی اطاعت قر ضروری ہے‘ تحمید الا زبان جلد نمبر ۵ صفی ۱۳۶۹) اس آیت کی تشریح حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں نہیں فرمائی۔محض اس کا ذکر کیا ہے اور اس کا معنی بہت قابل غور ہے۔میں پہلے بھی کئی بار بیان کر چکا ہوں کہ زمین کے احاطہ سے تو لوگ باہر جاسکتے ہیں راکٹس جاتے ہیں ، چاند پر بھی پہنچے ہیں، Mars تک بھی پہنچے ہیں اور اس سے آگے بھی سفر کر رہے ہیں لیکن اقطارِ السّمواتِ وَالْأَرْضِ آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے، کلیہ ناممکن ہے۔اِلَّا بِسُلْطن سلطان کہتے ہیں غالب دلیل کو۔پس غالب دلیل کے ذریعہ اب سائنسدان جب دور دراز کی خبر میں لاتے ہیں۔کوئی بیس ملین سال سے چلی ہوئی روشنی کی باتیں کرتے ہیں تو کسی دلیل کی بناء پر کرتے ہیں اور غالب دلیل ان کی صداقت کا اعلان کر رہی ہوتی ہے۔پس زمین و آسمان کی بادشاہت سے ان کی حدود سے کوئی تجاوز نہیں کر سکتا مگر ایک سلطان کے ذریعہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض الہامات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔۱۸۶۸ ء یا ۱۸۶۹ء میں یہ الہام ہوا۔