خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 509
خطابات طاہر جلد دوم 509 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء قطرہ اور درختوں اور بوٹیوں کا پات پات اور ہر یک جز اُن کا اور انسان اور حیوانات کے کل ذرات خدا کو پہچانتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اُس کی تحمید و تقدیس میں مشغول ہیں۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا يُسَبِّحُ لِلہ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ “ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفه ۳۳) اب یہاں قابل غور بات یہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کو غور سے پڑھنا چاہئے تب سمجھ آتی ہے۔یہاں مَن فِي السَّموت نہیں فرمایا۔وہ آیت پیش کی ہے جس میں مَا فِي السَّمواتِ ہے اور ھا“ جو ہے بے جان چیزوں کے متعلق بولا جاتا ہے تو صافي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے خواہ وہ تمہیں بے جان دکھائی دیتا ہو یا جاندار ہر صورت میں وہ اللہ تعالیٰ کی تحمید و تقدیس میں مشغول ہے۔اگر چہ تمہیں ان کی تحمید و تقدیس کی سمجھ نہیں آتی۔ایک سورۃ التغابن کی دوسری آیت ہے: يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللہ ہی کی تسبیح کر رہا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔اسی کی بادشاہت ہے اور اُسی کی سب حمد ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ اس ضمن میں فرماتے ہیں۔لوگ یا تو اس واسطے کسی کی فرماں برداری کرتے ہیں کہ وہ پاک اور مقدس ہے۔یا اس لئے کہ وہ بادشاہ ہے اگر نافرمانی کریں گے تو سزا دے گا یا اس واسطے کہ وہ ہمارا محسن ہے ہم پر انعام کرتا ہے اس لئے اس کی اطاعت ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت کی طرف اپنی انہی تین صفتوں کا ذکر فرما کر بلاتا ہے لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ملک بھی اسی کا اور سب خوبیوں کا سرچشمہ بھی وہی اور ہر چیز پر قادر بھی وہی، وہی پیدا کرنے والا ، وہی نگرانِ حال۔پس عبادت کے لائق بھی وہی۔اگر تم کسی کی اس لئے اطاعت کرتے ہو کہ وہ حسن رکھتا ہے۔تو یا درکھو تمام کائنات