خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 482

خطابات طاہر جلد دوم 482 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2000ء پورے ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔آج سے سو سال پہلے یعنی ۱۹۰۰ ء کے الہامات میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہندوؤں کے کرشن اور آریوں کے بادشاہ کے طور پر ملتا ہے۔چنانچہ اس سال ہندوستان میں احمدیت کو جو غیر معمولی پذیرائی اور قبولیت نصیب ہوئی ہے، وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے انہی الہامات کا ایک کرشمہ ہے جو ہندوستان میں اللہ تعالیٰ نے ان الہامات کو پورا کرتے ہوئے غیر معمولی برکت عطا فرمائی ہے اس کا ذکر انشاء اللہ آخر پر ہوگا۔ناقابل یقین کامیابیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے وہاں عطا فرمائی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہ حقیقۃ الوحی میں لکھتے ہیں: جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا اِن دنوں میں انتظار کرتے ہیں۔وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے۔آریوں کا بادشاہ۔تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۲۲٬۵۲۱) ۱۹۰۰ء کے الہامات میں سے ایک الہام یہ ہے: ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر میں بیٹھا ہوا ہوں۔ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے۔کرشن جی کہاں ہیں۔جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ ہے۔پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔اتنے ہجوم میں سے ایک ہندو بولا : ہے کرشن جی روڈ ر گوپال (تذکرہ : ۳۱۲) خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں بارہا مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ آریہ قوم میں کرشن نام ایک شخص جو گزرا ہے، وہ خدا کے برگزیدوں اور اپنے وقت کے نبیوں میں سے تھا اور ہندوؤں میں اوتار کا لفظ در حقیقت نبی کے ہم معنی ہے اور ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ