خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 462
خطابات طاہر جلد دوم 462 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998 ء ۲۶ ستمبر ۱۸۹۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: رات میں نے دیکھا کہ ایک بڑا پیالہ شربت کا پیا۔اس کی حلاوت اس قدر ہے کہ میری طبیعت برداشت نہیں کرتی۔بایں ہمہ میں اس کو پیئے جاتا ہوں اور میرے دل میں یہ خیال بھی گزرتا ہے کہ مجھے پیشاب کثرت سے آتا ہے۔اتنا میٹھا اور کثیر شربت میں کیوں پی رہا ہوں۔مگر اس پر بھی میں اس پیالے کو پی گیا۔شربت سے مراد کامیابی ہوتی ہے اور یہ اسلام اور ہماری جماعت کی کامیابی کی بشارت ہے۔( تذکرہ: ۲۶۷) اس ضمن میں یہ بات یاد رکھیں کہ شربت با وجود زیادہ مٹھاس کے پینا یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ اس شربت کی مٹھاس میں کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن کے نتیجہ میں فکر بڑھتی ہے اور پریشانیاں ہوتی ہیں۔یہ میں آپ کو اپنے دل کا حال اپنے تجربے سے بتا رہا ہوں کہ جوں جوں جماعت پھیلتی چلی جارہی ہے یہ میٹھا شربت ہر طرف سے مجھ تک پہنچ رہا ہے۔یہ شربت پیتا ہوں اور دل فکر سے بھی بھر جاتا ہے کہ ان لوگوں کو ہم کیسے سنبھالیں گے۔کیا انتظام ہوگا جس کے نتیجہ میں ہم اس وسیع تر دنیا کی تربیت کر سکیں گے جو دن بدن وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جارہی ہے۔پس اس رویا سے یہ مراد تھی کہ شربت میٹھا تو ہے مگر اس شربت سے کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں ان کی فکر ہے مگر ان فکروں کی وجہ سے شربت پینا نہیں چھوڑنا۔جس تیزی کے ساتھ آپ پھیل سکتے ہیں پھیلتے چلے جائیں اللہ تعالیٰ آپ کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی خود آپ کو تو فیق عطا فرمادے گا۔۲۱ دسمبر ۱۸۹۸ء کو الہام ہوا۔آپ فرماتے ہیں۔آج صبح کے وقت مجھ کو یہ الہام ہوا۔قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے ( تذکرہ: ۲۷۲) پس اس الہام کے پیش نظر میں امید رکھتا ہوں کہ بارگاہ الہی ہمارے ٹوٹے کام بنادے گی۔جتنے جماعت کے کام ہمیں ٹوٹے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، اللہ اپنے فضل سے ان کو جوڑ دے گا اور وہ جو سمجھ رہے ہیں کہ ہمارا بن بنایا کام ہے اس کو ایسا تو ڑے گا کہ کوئی اس کا بھید نہیں پاسکے گا۔