خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 441

خطابات طاہر جلد دوم 441 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء نے کچھ نہیں کہا۔اسی طرح آپ نے بقیہ زندگی بسر فرمائی اور یہ ۱۸۹۷ء کا جلسہ تھا جو اس لیکھر ام کی پیشگوئی کے بعد اس شان کے ساتھ منایا جا رہا تھا۔بابو گھانسی رام ایم۔اے۔ایل۔ایل۔بی کا اعلان تھا۔اُس نے یہ بات حق کہی کہ صوبہ پنجاب کے دارالخلافت لاہور میں یہ قتل ہوا مگر پولیس قاتل کا پتا چلانے میں نا کامیاب رہی۔اتفاق یہ دیکھئے غلام احمد کی پیشگوئی پوری ہوئی اور پنڈت لیکھرام کو شہادت نصیب ہوئی۔اس بات کو پر میشر ہی جان سکتا ہے کہ یہ اُس کا بھیجا ہوا عذاب تھایا انسان کا۔“ چنانچہ ہندوؤں نے کھلے عام بڑے بڑے لیڈروں اور لکھنے والوں نے یہ تسلیم کیا۔پنڈت مدن گوپال مون پارا شر سناتن دھرمی سابق ایڈیٹر ” اندھیر“ پٹی ضلع لاہور کا یہ اعتراف ہے۔وہ لکھتے ہیں۔و لیکھر ام کے مارے جانے کی نسبت پیشگوئی اور الزام قتل سے انجام کار اپنے بری ہونے کی پیشگوئی پوری ہوئی۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بریت کے لئے پیشگوئی فرمائی تھی۔آپ نے فرمایا تھا یہ میری پیشگوئی ہے۔لفظ لفظ پوری ہوگی۔لیکن تم دیکھنا کہ مجھ پر الزام لگانے والے جھوٹے نکلیں گے اور میری بریت بھی شائع ہوگی۔چنانچہ یہ بریت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے واقعۂ ظہور پذیر ہوئی۔یہ ایک واقعہ ہے جو مشہور آریہ سماجی پنڈت دیو پر کاش نے لیکھرام کے قتل کے متعلق خود لکھا ہے اور ان سب باتوں کی تصدیق کی ہے۔وہ یہ لکھتا ہے عین اُس وقت جبکہ پنڈت جی نے مہرشی کے جیون کے اس آخری حصہ کو جس وقت کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ویدک دھرم کے راستہ میں قربان کیا اور کہا ایشور تیری اچھیا ( خواہش پورن (پوری ) ہو۔( یعنی اے خدا تیری خواہش پوری ہو۔تیری رضا پوری ہو۔) ختم کیا اور تھکاوٹ کے سبب اٹھ کر سات بجے شام کے وقت انگڑائی لی۔اُس وقت وہ خنجر اُس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔یہ ہندو لکھنے والا اقرار کر رہا ہے کہ لیکھر ام کے آخری الفاظ اُٹھتے ہوئے یہ تھے۔کہ اب میں نے اپنا کام ختم کر لیا۔اے ایشور تیری اچھیا ہو۔اے خدا اب جو تو چاہتا ہے وہ کر۔عین اُس وقت وہ فنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا گیا۔وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کو ویدک دھرم میں اس راہ پر قربان کر دیا۔وہ کہتے ہیں تب پنڈت جی کی ما تا اور دھرم پتنی اُس کی طرف دوڑیں۔اب یہ واقعہ ہماری تاریخ میں نہیں ملتا اس لئے میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔