خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 440

خطابات طاہر جلد دوم 440 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء بشیر احمد صاحب چھوٹے تھے اور اماں جان کو سب سے پہلے اس واقعہ کی اطلاع اُنہوں نے یہ دی کہ پائی آیا ہے۔پائی آیا ہے۔اماں جان حیران تھیں۔یہ پائی آیا ہے کیا مطلب ہے۔تو وہ سپاہی کو دیکھ رہے تھے۔اس سپاہی کو پائی کہتے تھے۔تو سب سے پہلی جو اطلاع ملی ہے وہ اس بچے کی طرف سے ملی کہ سپاہی آگیا ہے۔لیکن پولیس کا جیسا کہ رواج ہے چاروں طرف سے، ہر طرح سے مسلح پولیس نے مکان کو گھیر رکھا تھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس سپر نٹنڈنٹ پولیس کو جو انگریز تھا سے فرمایا کہ اجازت ہو تو آپ کی کوئی خاطر کی جائے۔گرم دودھ یا اور کوئی چیز۔اس لئے کہ اس بیچارے کو تلاشی کے دوران ایک چھوٹے دروازے سے گزرنا پڑا تھا اور سر اتنی زور سے ٹکرایا تھا کہ بھتا گیا تھا اس لئے نہیں کہ آنے والے پولیس کی کوئی خاطر کی جارہی ہے۔اُس کی بیماری کے پیش نظر مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ میں گرم دودھ لے آؤں، کوئی چیز لاؤں، تو تھوڑی دیر کے بعد اُس نے کہا نہیں میں ٹھیک ہوں میں سنبھل گیا ہوں۔اب جو تلاشی ہوئی ہے اُس کا حال یہ تھا کہ تمام تالے توڑے گئے ہر کونہ کھد را دیکھا گیا، تمام ڈاک کی تلاشی لی گئی ، بعض اینٹیں اکھیڑی گئیں ، بعض دیوار کے پیچھے جہاں خیال تھا کہ کوئی چیز چھپائی جاسکتی ہے ان دیواروں کو اکھیڑ دیا گیا اور کوئی امکان باقی نہیں چھوڑا۔جس سے کہ چھپانے والا کوئی چیز چھپا سکے۔یہاں تک کہ بعض خطوط نکالے گئے جن خطوط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لیکھرام کی موت پر مبارک باد لکھی گئی تھی۔وہ خطوط اس پولیس افسر کے سامنے پیش کئے گئے۔تو یہ انسپکٹر پولیس دوڑا دوڑا گیا کہ دیکھو یہ پکڑا گیا اس شخص کو اس کے مریدوں نے مبارک باد کے خط لکھے ہیں۔ثابت ہوتا ہے کہ اس کا دخل ہے۔وہ انگریز بہر حال منصف مزاج تھا۔اُس نے کہا کیا باتیں کر رہے ہو۔اس خط سے اس کا ملوث ہونا کیسے ثابت ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ تو ایک خط ہے میرے پاس ایک صندوتچی بھری پڑی ہے۔اجازت ہو تو میں وہ لے آؤں۔اُس صند و مچی میں سارے مبارک باد کے خط تھے۔غرضیکہ اتنی تلاشی ہوئی ہے کہ اُس تلاشی میں اشارہ بھی کوئی ثبوت کسی قسم کا اگر مہیا ہوتا تو وہ ضرور وہاں سے نکلنا چاہئے تھا۔یہ جب واقعہ گزر گیا اور پولیس نے بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بری الذمہ قرار دے دیا۔تب بھی سارے ہندوستان سے آریہ سماج کی طرف سے اور بعض دوسرے ہندوؤں کی طرف سے دشمنی کا شور بڑھتا رہا اور باوجود اس دشمنی کے شور کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام