خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 439
خطابات طاہر جلد دوم 439 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء صلى الله بعض دفعہ صرف ایک خادم ساتھ ہوا کرتا تھا۔گھر پہ کوئی پہریدار نہیں، ہر شخص آتا جا تا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے روز مرہ کاموں میں کوئی ذرہ بھر بھی تبدیلی نہ آئی۔ہاں ایک مولوی تھا جس کو یہ بد بختی نصیب ہوئی کہ اُس نے آریوں کی تائید میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف زبان درازی شروع کر دی۔اُس مولوی کا نام محمد حسین بٹالوی ہے۔انتہائی استہزاء کی زبان جو آنحضرت ﷺ کے خلاف لیکھرام استعمال کیا کرتا تھا۔اُسے خاطر میں نہ لایا اور اپنے رسالہ اشاعۃ السنت میں الہامی قاتل کے عنوان سے مضمون لکھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس سلسلہ میں بار بار تنگ کیا گیا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مولوی محمد حسین بٹالوی بھی رسول اللہ ﷺ کے دشمن کے حق میں آپ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام الہامی قاتل رکھا۔ہندو اخبارات نے جہاں تک ان کی بن پڑی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے خلاف شور ڈالا۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اتنی زیادہ کھچڑی پک چکی تھی اور ہندو اخبار اتنی زہر چکانی کر چکے تھے کہ اچانک ایک دن غیر متوقع طور پر پولیس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر کوگھیرے میں لے لیا۔اُس وقت جو سپر نٹنڈنٹ پولیس تھا وہ انگریز تھا اور اُس کے نائبین میں سے ایک انسپکٹر پولیس جو مسلمان تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ہمیشہ پلید زبان استعمال کیا کرتا تھا اور اُس نے یہ اعلان کیا تھا کہ میں ان ہاتھوں سے مرزا قادیانی کو تھکڑی پہناؤں گا، دیکھو وہ کیسے مجھ سے بچ کے نکلتا ہے۔چنانچہ جو تلاشی شروع ہوئی اُس میں حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک بیان کا خلاصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ فرماتی ہیں کہ (میری پھوپھی جان حضرت ) مبارکہ بیگم کا چھلہ نہائے ہوئے ابھی دو تین دن ہی گزرے تھے کہ اوپر کے مکان سے زور زور کی آوازیں آنی شروع ہوئیں۔مسجد کا دروازہ بڑے زور سے کھٹکا اور اس طرف سے بھی ایک سپاہی نمودار ہوا۔حضرت صاحب اندر دالان میں بیٹھے کام کر رہے تھے۔آپ کو پیغام بھجوایا گیا کہ سپاہی آگئے ہیں۔آپ بڑے اطمینان سے اٹھے مسجد کی طرف گئے۔دیکھا تو وہاں انگریز پولیس کپتان کھڑا تھا۔حضور نے اُسے مکان کے اندر آنے کی دعوت دی اور اُس کے ساتھ ہی پولیس نے مکان پر ہر جگہ سے قبضہ کر لیا اور تمام اونچی جگہوں پر کھڑا ہو کر مکان کی حرکات و سکنات کا ملاحظہ کرنے لگے۔اُس وقت ہمارے چچا جان حضرت مرزا