خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 37
خطابات طاہر جلد دوم 37 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء کے خلاف کچھ چاہتے ہیں تم سے، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے خود پیشکش کی۔پاکستان کے دوست بھی ہیں اور دشمن بھی ہیں تو بڑی سختی سے احمدیوں نے اُس کو رد کیا۔انہوں نے کہا کہ ایک لمحہ کے لئے بھی تم یہ نہ سمجھو کہ ہم پاکستانی نہیں ہیں تو پاکستان کے خلاف ہو جائیں گے باوجود اس کے کہ ہماری وفاداریاں قانونا اور طبعاً اُس ملک کے ساتھ نہیں ہونی چاہئیں جو ہماری جماعت پر ظلم کر رہا ہے لیکن ہماری جماعت کی ہدایت یہ ہے کہ ہمارا مرکز وہاں ہے، ہماری ایک بڑی تعداد وہاں ہے، وہاں کا نمک کھایا ہے ہم نے ، وہاں کے پیسے باہر نکل کر تمہاری خاطر خرچ ہوئے ہیں، وہاں کے واقفین زندگی نے اپنا خون جلایا ہے تمہاری خاطر، تمہاری خاطر وہ روتے رہے، دعائیں کرتے رہے، تمہیں دعائیں دیتے رہے اور تمہیں اسلام کا پیغام پہنچاتے رہے۔تو جو ہماری وفائیں ہیں وہ تمہاری بھی وفائیں بن چکی ہیں، جو ہماری وابستگیاں ہیں وہ تمہاری بھی وابستگیاں بن چکی ہیں اس لئے حیا کا، انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس ملک کے خلاف کوئی پرو پیگنڈا نہیں کرنا۔یہ ملک تو خود مظلوم ہے، ہاں وہ ظالم جو قابض ہیں اس ملک پر، جو باقی سارے مسلمان بھائیوں پر اور پاکستانی دوسروں پر بھی ظلم کر رہے ہیں ان کے متعلق بتاؤ کہ یہ لوگ ظالم ہیں، انہوں نے ظلم کیا ہے، ان کے ہاتھ روکنے چاہئیں ظلم سے، ویسے تم نہیں روک سکتے ، مگر حق کو حق تو تسلیم کرو کہو کہ ہاں یہ ظالم ہیں، اس سے زیادہ ہم نہیں چاہتے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کا بھی بہت نیک اثر ہوا اور بہت سے پاکستانی بھائی جو شروع میں اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ یہ گویا احمدیت بمقابل پاکستان قصہ چل رہا ہے وہ سمجھ گئے اور کئی جگہ احتجاجات میں ساتھ شامل ہوئے ہیں اور بڑی مدد کی ہے اور بڑی شرافت کا نمونہ دکھایا ہے۔اگر یہ سارے پاکستانی جو غیر ملکوں میں بستے ہیں، اگر یہ حکومت پاکستان کے ظلم میں شریک ہوتے تو آپ کی کوششوں کا سوواں حصہ نتیجہ بھی نہیں نکل سکتا تھا۔جو خدا نے بڑا فضل فرمایا اور یہ وقت پر سمجھے اور ان کی ہمدردیاں ہمارے ساتھ ہوئیں اور چونکہ آزاد ملکوں میں رہتے تھے، ان کے دماغوں نے بھی آزادی سے سوچا۔اس کے علاوہ ایک ہنگامی کمیٹی مجھے قائم کرنی پڑی جو اس سے زیادہ اوپر کے درجے سے تعلق رکھتی تھی۔اور وہ اصولی باتیں اور ایسے امور جن کا پالیسی سے تعلق ہوتا ہے، ان میں میری مشیر