خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 38

خطابات طاہر جلد دوم 38 888 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء بھی تھی اور مجھ سے ہدایت لے کر پھر آگے پہنچاتی تھی۔یہ کمیٹی جو ایک اعلی سطح کی کمیٹی ہم کہہ سکتے ہیں تنفیذ کے سوا باقی سارے کام نظارت امور عامہ والے سرانجام دے رہی تھی اور بہت عمدہ انہوں نے کام کیا ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور ان کے بھی جوممبران تھے وہ ہمہ وقت حاضر تھے۔انہوں نے مجھے صاف کہ دیا تھا کہ نوکریاں ہماری ہیں لیکن وہ ہم اس طرح وقت گزار رہے ہیں کہ جب چاہیں ایک لمحہ کے نوٹس کے بغیر بھی نوکریوں کو پس پشت پھینک کر ہم حاضر ہو جائیں گے۔جس وقت چاہیں بلائیں ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر ہم حاضر ہوں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوتا رہا کبھی میں نے ان کو رات کو تکلیف دی، کبھی دن کو تکلیف دی، کبھی دفتروں سے بلایا لیکن کسی کی پیشانی پر کوئی بل نہیں آیا اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑی محبت اور سمجھ اور فہم کے ساتھ اپنے فرائض کو سر انجام دیا۔تیسرا اہم شعبہ جس کو فوری طور پر قائم کرنا پڑا وہ شعبہ سمعی وبصری تھا کیونکہ تحریری طور پر باتیں بعض دفعہ وہ اثر نہیں کرتیں جو اپنی آواز میں پہنچیں یا خلیفہ وقت کی آواز میں پہنچیں تو ویسا اثر کر سکتی ہیں اور دوسرے آواز میں بات پہنچنے کا فائدہ یہ ہے کہ بہت سے لا علم جو پڑھ نہیں سکتے ، ان تک بھی بات پہنچ جاتی ہے۔پھر بعض ملکوں میں مشکلات بھی بہت تھیں ، اگر ہم شائع کروانے کے چکر میں پڑے رہتے تو ایک تو وقت کا بہت ضیاع تھا اور دوسرے بہت سے ملک محروم رہ جاتے ، وہ کیفیت ہی پیدا نہیں ہوسکتی تحریر میں، وقت بھی بہت لگتا ہے۔پھر بعض ملکوں میں تحریر ضبط ہو جانی تھی ہمیں پتہ تھا۔چنانچہ شعبہ سمعی و بصری بھی اسی طرح کلیہ رضا کا ر خدمت گاروں کے اکٹھے ہونے پر قائم کیا گیا اور ان سب نے بہت ہی محنت کی ہے، بہت کام کیا ہے۔آپ اندازہ لگا ئیں اعداد وشمار سے ، گل وقت جو اس شعبہ کے تحت فلمیں تیار کی گئی ہیں، کیسٹس تیار کی گئی ہیں، ویڈیوفلمز تیار کی گئی ہیں۔مجالس سوال و جواب کی 270 گھنٹے کی کیسٹس اور ویڈیوز انہوں نے تیار کی ہیں اور 270 گھنٹے کا مطلب یہ ہے کم و بیش اڑھائی سو دن اور وہ تھوڑا سا عرصہ جو میں شامل نہیں ہوا بعض مجالس میں اس کے سوا تقریباً روزانہ ان کا یہ کام تھا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا کام کرتے تھے۔دنیا میں ان کے بہت سے دھندے تھے ، بعضوں کی دکا نہیں تھیں ، کوئی ٹیکسی ڈرائیور کوئی کوئی اور کام کر رہا ہے اور کام سے فارغ ہوتے ہی یہاں پہنچ جایا کرتے تھے اور بعض دفعہ ساری ساری رات ان کو بیٹھنا پڑتا تھا کیونکہ پھر ان کی Editing کرنی پڑتی تھی ، ہر ریکارڈ کو