خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 376 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 376

خطبات طاہر جلد دوم 376 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۵ء عارف باللہ کا کلام ہے، مراد یہ ہے کہ کوئی تبدیلی بھی انسان خواہ وہ پاک تبدیلی ہی ہو خالصہ اپنی نیت اور کوشش سے نہیں کر سکتا جب تک خدا کا فضل نازل نہ ہو۔پس یہ تبدیلی بھی عطا ہوتی ہے۔حاصل کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ کوشش کریں اور اللہ اس کوشش کو قبول فرمائے اور وہ تبدیلی ان کے دلوں میں نازل ہو اور وہ اس تبدیلی کو حاصل کر لیں۔پھر فرماتے ہیں اس کے نتیجے میں کیا ہو؟۔ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں، یہ وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کی خاطر ہم سب یہاں اکٹھے ہوئے ہیں اور وہ بھی شامل ہیں جو یہاں اکٹھے نہیں ہو سکے۔امر واقعہ یہ ہے کہ دلوں کا خدا کی طرف جھک جانا ایک بہت بڑی کامیابی ہے، ایک بہت بڑا انعام ہے اور یہی دلوں کا جھک جانا ہے جو انسان کی دنیاوی اور اخروی نجات کے لئے ضروری ہے۔پس ہر وہ انسان جو اپنے دل کو غیر اللہ کی طرف جھکا ہوا دیکھتا ہے وہ خطرے کے مقام میں ہے۔یادرکھیں کہ ایسے لوگ اپنی ذات کو خود سب سے زیادہ آسانی کے ساتھ پہچان سکتے ہیں۔جب ذکر کی مجالس سے اٹھتے ہیں تو ان کی توجہ جو دنیا پر جھکے ہوئے ہوں تیزی کے ساتھ اپنے کاموں کی طرف دوڑتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ چھٹی ملی نجات ہوئی ، اب ہم واپس ان مشاغل میں جاتے ہیں جو ہمارے دل کو مرغوب ہیں، جو حقیقتاً ہمارے دل کو عزیز ہیں لیکن وہ لوگ جو حقیقتا اللہ کی طرف جھکے ہوئے دل رکھتے ہیں ان کا ایسی مجالس سے اٹھنا ایک طرح دو بھر ہوتا ہے، وہ لذتوں اور خوابوں کو لئے ہوئے اٹھتے ہیں، وہ مدتوں ان کے متعلق سوچتے رہتے ہیں اور ان روحانی لذتوں میں ڈوب کر ایک فیض پاتے چلے جاتے ہیں۔جس طرح ایک پیارے کی ملاقات ختم ہونے کے باوجود ختم نہیں ہوتی وہ یاد بن جاتی ہے، وہ زندگی کا سہارا بن جاتی ہے۔بعض دفعہ عمر بھر سونے سے پہلے بعض یاد کے مناظر انسان کی نظروں میں خواب کی طرح آتے ہیں اور خواب ہی کی طرح اس کی نیند میں گھل مل جاتے ہیں۔پس ذکر الہی سے مراد یہ نہیں کہ ذکر الہی کیا اور دل پھیر لیا اور آنکھیں بدل لیں۔ذکر الہی سے مراد یہ ہے کہ ایسا ذکر کریں جو محبوب کا ذکر ہو، جس ذکر میں ایسی لذت ہو کہ ذکر ختم ہونے کے با وجود وہ لذت آپ کا ساتھ نہ چھوڑے، آپ اس سے چھٹے رہیں اور بار بار اس لذت کی طرف اپنے دل کو مائل پائیں۔یہی مقصد ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں۔ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر