خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 372
خطبات طاہر جلد دوم 372 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۵ء صبح بھی اور شام بھی ذکر الہی کرتے رہیں۔اللہ کے ذکر سے اپنے دلوں کو سیراب کریں اور اجتماعی طور پر جس جگہ یہ ذکر بلند ہورہا ہو اس کے متعلق بہت ہی عظیم خوشخبریاں ہیں۔آج اس مجلس میں وہ بھی شامل ہیں جو یہاں موجود نہیں اور دنیا کے کونے کونے میں احمد یہ ٹیلی ویژن کے ذریعے یہ جلسہ عام ہو چکا ہے اور وہ سب بھی اس میں شامل ہیں جو اس وقت مختلف ممالک میں ٹیلی ویژن کے ساتھ آنکھیں لگائے اور دل چپکائے بیٹھے ہیں۔ان میں بڑے بھی ہیں، چھوٹے بھی ، بوڑھے بھی اور بچے بھی اور ایک عجیب جذب کی کیفیت سے وہ آج ہمارے اس جلسے میں شامل ہیں۔حسرت ان کو یہ ہے کہ ہم وہاں ہوتے جہاں یہ سب خدا کے بندے ذکر الہی کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں مگر ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک رنگ میں اس میں شرکت کی بناء پر اللہ کی حمد کے گیت گا رہے ہیں اور شکر گزار ہیں۔پس وہ سب آج اس جلسے میں شریک ہیں جو یہاں پہنچ گئے اور وہ بھی جو یہاں پہنچ نہیں سکے اور پھر کچھ ایسے بھی ہیں جن کو ٹیلی ویژن کے ذرائع بھی میسر نہیں یا وہ ریڈیو کے ذریعے جماعت کے پیغامات کو سنتے ہیں یا انتظار کرتے ہیں کہ چھپی ہوئی خبروں کے ذریعے ان تک جماعت احمدیہ کی کارروائی پہنچے۔مگر اس وقت اس لمحے یہ جلسہ تمام دنیا کے براعظموں میں سنا اور دیکھا جارہا ہے کہیں رات ہے کہیں دن ہے، کہیں صبح ہے کہیں شام۔پس اس پہلو سے جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی کہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا تو حقیقت یہ ہے کہ لفظاً لفظاً اس آیت کا اطلاق اس جلسے پر ہورہا ہے، کہیں ذکر الہی صبح جاری ہے، کہیں شام کو اور چوبیس گھنٹے کے ہر لمحے اس جلسے میں شمولیت کرنے والے ذکر الہی میں مصروف ہیں۔پس اس عالم میں یہ ایک ہی جلسہ ہے اور اس کی کوئی مثال دنیا میں اور کسی جگہ دکھائی نہیں دیتی۔ایک ہی جلسہ ہے جو کل عالم میں دکھائی دے رہا ہے، ایک ہی جلسہ ہے جو کل عالم میں سنائی دے رہا ہے ، ایک ہی جلسہ ہے جس میں مختلف قومیں ہر جگہ سے گورے بھی اور کالے بھی ، شمالی اور جنوبی اور مشرقی اور مغربی سب برابر کے شریک ہیں۔تو اس ذکر کی مجلس کے متعلق میں حضرت اقدس محمد مصطفی میت اللہ کے الفاظ میں آپ سب کو خوشخبری دیتا ہوں۔سب سے پہلی بات تو یہ کہ ذکر ہے کیا اور سب سے اعلیٰ ذکر کیا ہے؟ وہ قیام توحید ہے اور کلمہ تو حید ہی ہے جو سب ذکروں سے افضل ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔