خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 367
خطابات طاہر جلد دوم 367 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء سیرت رسول پر مضمون شائع کرنے کی جرات کی۔رسالہ انصار اللہ کی انتظامیہ پر مقدمہ اس لئے درج ہے اور ابھی مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوا اور اس پر علماء کے سارے دباؤ پڑے ہوئے ہیں کہ ان لوگوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑنا۔مقدمہ کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کیوں بیان کرتے ہو۔ہم جو بد بختیاں کر رہے ہیں کیا وہ کافی نہیں ، ہم جو گند اچھالتے ہیں یہ کافی نہیں ہے۔تمہیں کیا ضرورت ہے رسول اللہ ﷺ کی تعریف کرنے کی اور آپ کا حقیقی اور اصلی خوشنما چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کرنے کی۔ایک مقدمہ درج ہوا ہے بنک رسول کا C-295 ، جس کی سزا موت کے سوا کوئی نہیں ہے۔جرم کیا تھا؟ رسالہ انصار اللہ ایک غیر احمدی کو دیا گیا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہوگئی ، اس لئے موت کے سوا اس کی کوئی اور سزا نہیں۔قرآنی آیات اور درود شریف پڑھنے کی وجہ سے مقدمہ جاری ہوا اور یہ ثابت کیا گیا اور یہ بات سچی تھی کہ احمدی قرآن پڑھتے ہیں اور درود شریف پڑھتے ہیں۔کہتے ہیں ان کو گستاخی رسول کی سزا میں ان کو موت کی سزادو اور ان لوگوں کی ضمانتیں بھی مستر دہوئیں۔کہ اتنا واضح گستاخی کا کیس تم رسول اللہ ﷺ پر درود بھیج رہے ہو۔او بے حیاؤ! ہماری طرح کیوں نہیں کرتے۔جیسی باتیں ہم کرتے ہیں ویسی باتیں کرو، سب اجازت ہے لیکن دیوبندی ہو جاؤ، شیعہ ہو جاؤ،اہلحدیث بن جاؤ پھر کھلی چھٹی ہے مگر احمد ی ہوتے ہوئے تم رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تمہیں تختہ دار پر لٹکا یا جائے گا۔اب سنئے لیٹر ہیڈ پر بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم۔وعلى عبده المسیح الموعود شائع کرانے پر دفعہ -295 کے تابع جن احمدیوں پر یہ موت کی پھانسی کا پھندا لٹکایا گیا، جن کے سروں پر وہ کیا واقعہ ہواتھا؟ یہ بھی سننے سے تعلق رکھتا ہے شہداد پور ضلع سانگھڑ میں تین آدمیوں مکرم محمد دین صاحب ناز اور مکرم قاضی منیر احمد صاحب اور محمد ابراہیم صاحب جو دفتر انصار اللہ میں سیکرٹری ہیں ان کے خلاف C-295 کا ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔اس مقدمہ کی F۔I۔R،11-9-90 کو ٹنڈو آدم میں کاٹی گئی، جس کی بنیا د ایک پوسٹ کارڈ پر رکھی گئی۔جس پر محمد ابراہیم صاحب مینیجر ماہانہ انصاراللہ ربوہ کے دستخط تھے، جور بوہ سے کراچی کے کسی احمدی کے نام لکھا گیا تھا اور مضمون یہ تھا کہ رسالہ کی تجدید کے چندہ کی ہم تمہیں یاد دہانی کراتے ہیں، یہ مضمون ہے۔بد بخت حمادی نے ڈاکخانے والوں سے مل کر وہ کارڈ نکلوالیا۔اس پر تحریف کی ، اس پر اس احمدی کا نام