خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 366
خطابات طاہر جلد دوم 366 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء اتنا احمق انسان جو قرآن کریم کی اس آیت کی یہ تفسیر کر رہا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام بیچارے ایک بادشاہ کے نیچے مدتوں قید میں رہے مظلوم اور کوئی ان کو چھڑا انہیں سکتا تھا۔جو نجات کے بعد اس منصب پر فائز ہونے کے بعد جو انہوں نے طلب کیا تھا یہ بھی طاقت نہیں رکھتے تھے کہ اپنے بھائی کو روک رکھیں۔اللہ فرماتا ہے اس کو طاقت نہیں تھی اس حکومت میں کہ یہ کام کر سکے، خدا نے چاہا تو اس کے لئے تدبیر فرمائی۔فہم قرآن کا دعویدار مودودی صاحب فرما رہے ہیں کہ یہ مطالبہ منصب وزارت کا نہیں تھا، یہ مطالبہ تھا مجھے ڈکٹیٹر بناؤ تو تب میں کام کروں گا۔یہ ان کا دین، یہ ان کا مسلک، یہ ان کا مبلغ علم یہ ان کی طبیعتوں کا فساد ہے۔جسے اچھال اچھال کر اسلام کے چہرے کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ابھی عزت رسول اور ناموس رسالت اور ناموس انبیاء کا بھی دعوئی ہے جو ساتھ ساتھ جاری وساری ہے۔اب سنئے جماعت احمدیہ کے وہ مظلوم جو آج بھی سخت اذیتوں میں اور سخت شدید گرمی میں کال کوٹھریوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔جن کے اوپر موت کے فیصلے کی تلوار لٹکائی گئی ہے یہ کہہ کر کہ تم شاتم رسول اور تمہاری سز اقتل کے سوا اور کوئی نہیں۔وہ کون لوگ ہیں کیا سب و شتم سے انہوں نے کام لیا ؟ اس کا بھی موازنہ کر کے دیکھ لیجیے کہ ان کا مسلک کیا ہے؟ اس کے مقابل پر احمدی کس جرم کی سزا پاتے رہے ہیں۔آج وہ چار اسیران راہ مولیٰ ہمارے اندر بیٹھے ہیں ان کی داستانیں دس سال جو انہوں نے اذیت کی زندگیاں بسر کی ہیں۔اتنی درد ناک ہیں، اتنی دردناک ہیں کہ خدا کی قسم میں روزانہ عرش کے خدا کے سامنے رویا کرتا تھا۔دن کے بعد دن اور رات کے بعد رات خدا کے حضور روتے ہوئے ان کے لئے گڑ گڑاتا رہا ہوں۔کتنے دردناک خطوط ان کے موصول ہوا کرتے تھے کہ ایک موقع پر ایک مظلوم اسیر راہ مولیٰ نے مجھے لکھا کہ میں شرمندہ ہوں کہ میں نے کیوں آپ کو اپنی باتیں لکھیں۔مجھے آپ کی اذیت کا علم ہو کر بہت ہی اذیت پہنچی۔ہم جس حال میں ہیں ہمیں چھوڑ دیں، آپ اذیت میں مبتلا نہ ہوں۔“ کیا جرم تھا ان لوگوں کا اور کیا جرم ہے اُن کا جو آج کال کوٹھریوں میں زندگی کی سانس لے رہے ہیں۔وہ جرم یہ ہے کہ انہوں نے حضرت محمد رسول کریم ﷺ پر سلام بھیجا اور درود بھیجا اور