خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 365
خطابات طاہر جلد دوم 365 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء ور تفصیل اس کی یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔میری کتاب مذہب کے نام پر خون Murder in the Name of Allah میں جس نے دیکھنا ہو یہ مودودی صاحب کے فقرات کو وہاں سے مطالعہ کر لیں۔ترجمان القرآن جلد ۲ نمبر اصفحہ ے پر لکھا ہے: آنحضرت معہ سے لے کر مصطفیٰ کمال تک کی تاریخ کو اسلامی کہنا مسلمانوں کی غلطی ہے۔“ صلى الله رسول اللہ ﷺ کے بعد نہیں ، رسول اللہ ﷺ کو شامل کر کے آپ کے زمانے سے لے کر مصطفی کمال کے زمانے تک جو تاریخ گزری ہے اس کو اسلامی کہنا مسلمانوں کی غلطی ہے۔انبیاء کے متعلق مودودی صاحب لکھتے ہیں : موسیٰ علیہ السلام کی مثال اس جلد باز فاتح کی سی ہے جو اپنے اقتدار کا استحکام کئے بغیر مارچ کرتا ہوئے آگے چلا جائے۔“ حضرت موسی ، قرآن کریم نے فرمایاؤ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيْهَا خدا کو ان غلطیوں کا علم نہیں تھا، خدا کے نزدیک وہ وجیہ ہی رہے۔اور دو ہزار برس کے بعد مودودی صاحب کو اطلاع ہوئی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ، دو ہزار برس تو حضرت عیسی کو گزرے ہیں اس سے بھی پہلے تیرہ سو سال پہلے موسی آئے تھے۔اکتیس سو سال کے بعد یہ بات جو خدا کے علم میں نہیں آئی تھی ، مودودی صاحب نے آخر پالی اور نقطہ یہ بیان فرمایا کہ موسق کی مثال تو ایسے جلد باز فاتح کی سی ہے جس کو مودودی قیادت نصیب نہ ہو اور وہ فتوحات کو مستحکم کئے بغیر سر اٹھائے آگے بھاگا چلا جائے۔یہ موسیٰ کی شان ہے جو مودودی پر ظاہر ہوئی ہے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے قول کی تفسیر سن لیجیے۔یہ مودودی کا اندرونہ ہے جو اچھل رہا ہے انبیاء کے حوالے سے اور یہ سب قابل قبول ہے اور یہ سچا اسلام بنا ہوا ہے آج پاکستان میں، لکھتے ہیں : ” جب حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کر دو۔“ اجْعَلْنِى عَلَى خَزَايِنِ الْأَرْضِ فرمایا تھا حضرت یوسف نے تو مودودی کہتے ہیں: یہ محض وزیر مالیات کا منصب نہیں تھا جیسا کہ بعض دوست سمجھتے ہیں ، بلکہ یہ ڈکٹیٹر شپ کا مطالبہ تھا۔“