خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 361

خطابات طاہر جلد دوم 361 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء حضور ﷺ کی قبر کی زیارت کے واسطے سفر کرنا شرک کی طرف لے 66 جانے والا ہے۔اب کہاں ہیں آج ملے اور مدینے کے سر براہ ، وہ لوگ جو سخت گرمیوں میں تکلیف اٹھا کر بھی زیارت روضہ رسول کے لئے جاتے ہیں۔ان کے بڑے امام ان کے بانی و مبانی کا فتویٰ یہ ہے کہ یہ محض شرک ہے۔اگر قرآن کی تعلیم کی تمہیں پرواہ نہیں اور غیرت نہیں تو اپنے امام کے نام کی ہی الله غیرت کرو جس کے نام پر وہابی فرقے کی بنیاد ڈالی گئی۔کہتے ہیں ! رسول اللہ ﷺ کی قبر کی زیارت کے لئے جانا شرک ہے۔اور براہین قاطعہ صفحه ۵۵ پر مولوی خلیل احمد صاحب امیٹھوی ( یہ نام عجیب سا ہے مگر ہے صحیح نام امیٹھوی، امیٹھا جگہ ہے اس سے بنا ہوا ہے ) کہتے ہیں کہ رسول کو ، رسول اللہ ﷺ کو دیوار کے پیچھے کاعلم نہیں تھایہ کیا با تیں کر رہے ہیں۔” تقویۃ الایمان میں جو دیو بندیوں کے بانی ومبانی کی کتاب ہے۔لکھا ہے ! کروڑوں محمد پیدا ہو سکنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔یہ حوالہ ہے دیوبندی مذہب کی طرف سے، اس میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ خود ان کا عقیدہ ہے کہ پیدا ہو سکتے ہیں، یعنی امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔بانی دیوبند خود بزرگ اور تقویٰ شعار انسان تھے۔ہم بھی متقی ہیں ہم ان کے او پر ناجائز زبان دراز نہیں کرنا چاہتے۔میں اس لئے غلط فہمی دور کرنا چاہتا ہوں ان کا ہرگز مسلک یہ نہیں تھا کہ نعوذ باللہ من ذالک کروڑوں محمد پیدا ہو سکتے ہیں۔ان کا مسلک یہ تھا کہ جہاں تک کائنات کونِ امکان کا تعلق ہے اگر نہ ہو سکتے تو پھر محمد رسول اللہ کو فضیلت نہ ہوتی۔کونِ امکان میں ہو سکنے کے باوجود کوئی نہیں ہے جو پیدا ہو سکے۔یہ وہی مسلک ہے جب حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کیا تو یہی دیوبندی حضرت مصلح موعود کے خلاف پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑگئے کہ دیکھو کتنی بڑی گستاخی کی ہے حالانکہ یہاں تو وضاحت نہیں، مگر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی خطبے میں وضاحت فرمائی۔چند سطریں ہیں اور اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ پیدا ہو سکتے ہیں ، یعنی امکان ہے مگر کسی ماں نے وہ بچہ نہیں جنا، نہ قیامت تک جن سکتی ہے کہ جو محمد رسول اللہ سے آگے بڑھ سکے۔صراط مستقیم میں لکھا ہوا ہے کہ اھل حدیث کئی خاتم النبیین پیدا ہونے کے قائل ہیں اور جہاں تک احرار اور ختم نبوت والوں کا تعلق ہے ان کے امیر اور رسول کون تھے تاریخ حقائق صفحہ