خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 343

خطابات طاہر جلد دوم 343 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۴ء شرک پر قائم ہیں جو اس سے بھی بڑا جرم ہے اور اس کی کوئی سزا نہیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ کا فتویٰ یہ ہے اور جو معقولی وجوہات بیچ میں رکھتا ہے۔کہتے ہیں تم کہتے ہو رسول اللہ ﷺ کا شاتم لاز ما قتل ہونا چاہئے ، ایک جذباتی بات ہے جو قرآن کے اصولوں سے ٹکرا رہی ہے۔فرمایا شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور قرآن کریم نے اس کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے اور مشرک تو قتل نہ ہوں اور اس سے ادنی ادنیٰ جرائم والے قتل ہوں، یہ انسانی عقل میں آنے والی بات ہی نہیں۔اس لئے امام ابوحنیفہ نے کلیہ اس فتوے کو رد کر دیا۔وَقَالَ سُفْيَان وابو حنيفة واصحابه إن سب الله تعالى او رسوله صلى الله عليه وسلم باي شيءٍ فانّه لا يقتل لكن ينهى عنه المحلى ابن حزم۔ابن حزم یہ روایت کرتے ہیں کہ سفیان ثوری نے بھی اور ابو حنیفہ نے بھی دونوں نے یہ فتویٰ صادر فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ کو گالیاں دے اور رسول کو گالیاں دے تو کسی مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ ان کو قتل کرے، ہاں ان کو منع کرنا ضروری ہے۔کیسی پاک تعلیم ہے، کتنے عظیم حو صلے والی تعلیم ہے۔اور امام ابوحنیفہ وہ ہیں جنہیں آئمہ اربعہ میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے، تمام تر کی حنفی ہے۔ہندوستان کی بھاری اکثریت، پاکستان اور ہندوستان کی حنفی ہے۔اب وہ حنفی پتا نہیں بیٹھے کیا سوچ رہے ہیں اور کیا دیکھ رہے ہیں ، جن کے امام کے خلاف دوسرے آئمہ کے فتوؤں کو جاہلا نہ طور پر ملک میں صادر کیا جارہا ہے اور چپ کر کے بیٹھے ہیں، وہ اپنی عزتیں اور اپنی جانیں بچائے پھرتے ہیں۔پھر تفسیر مظہری میں لکھا ہے۔امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ اگر معاہد رسول اللہ علیہ کو گالی دے تو اس کو قتل کرنا نا جائز ہے، یعنی مسلمان ہو یا غیر مسلم ہوا گر ذمی ہے اور معاہدے کی رو سے ملک میں رہتا ہے تو فرمایا کہ وہ گالیاں دے تب بھی اس کا قتل کرنا حرام ہے کیونکہ گالی دینا کفر ہے اور کفر سے معاہدہ کی شکست نہیں ہوتی۔جو ذمی ہے اس کا ایک معاہدہ ہے اور کفر اس معاہدے کو نہیں تو ڑتا، اس لئے اس کا قتل کسی صورت میں جائز نہیں ہے خواہ وہ اس حد تک بد کردار ہو کہ رسول کو گالیاں دے۔واما ابو حنيفة واصحابه فقالوا لاينقض العهد بالسب ولا يقتل الذمى بذالك لكن يعزر على اظهار ذالك كما يعذر على اظهار المنكرات (الصارم المسلول بحوالہ ردالمختارعلى الدار المختار شرح تنویر الابصار جلد 4 صفحہ ۱۰۷) کہتے ہیں ایسی صورت میں کہ کوئی رسول اللہ یہ کو گالیاں دے اس کا قتل ہرگز جائز نہیں، زیادہ سے زیادہ اس بات کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ اسے