خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 334
خطابات طاہر جلد دوم 334 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۴ء بیان کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں تم بنی نوع انسان کا خون حلال کر رہے ہو، جس کی خدا نے بڑی حرمت بیان فرمائی ہے اور قرآن کریم کی شریعت انسانی دم بہانے کے متعلق بار بار متنبہ کرتی ہے، بہت سی شرائط مقرر کرتی ہے۔ان سب کو نظر انداز کر کے اس ازمنہ وسطی کے فرضی انبار کے پیچھے چلتے ہوئے تمہیں کیا حق ہے کہ شریعت اسلامی کو بگاڑو۔بہت سی ایسی روایات ہیں جن کو میں اس وقت بیان نہیں کر رہا، مثالیں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ قاضی عیاض صاحب کے فتوے اگر کوئی پڑھ لے تو آج کسی مسلمان کا خون حرام نہیں رہتا ،ساراہی مباح ہو جاتا ہے۔وہ فتاوی پڑھ کر دیکھیں اور کبھی وقت ملا تو انشاء اللہ میں آپ کو سناؤں گا۔یہ جو فتویٰ دینے والے قاضی عیاض کے فتوے دیتے ہیں جب اپنے خلاف فتویٰ جاری ہو گا تو اس وقت کیا کریں گے۔اس میں تو ہر قسم کے فتوے موجود ہیں، ایسے عقل کے خلاف اور ایسے انسانی فطرت کے خلاف فتاویٰ موجود ہیں کہ اگر ان کو دنیا میں مشہور کیا جائے اور شائع کیا جائے تو دنیا کے دل اسلام سے متنفر ہو جائیں۔ان کو ان لوگوں نے خدا بنا رکھا ہے حالانکہ شارع تو حضرت محمد رسول اللہ بھی نہیں، یہ عوام الناس کی غلط فہمی ہے۔جب شارع کہا جاتا ہے تو صرف خدا ہے جو شارع ہے۔اللہ ہی ہے جس کو شریعت نازل کرنے کا حق ہے اور اسی نے نازل فرمائی۔آنحضرت ﷺ پرتو نازل ہوئی ہے اور آپ اس کی بہترین تفسیر سمجھنے والے اور اپنے پاک کردار میں اس تفسیر کو جاری فرمانے والے تھے۔پس جنہوں نے قاضی عیاض کو خدا بنا لیا یا کسی اور مفتی کو ان کا حقیقت میں اسلام سے کوئی تعلق نہیں ایک فرضی دین ہے جو انہوں نے بنا رکھا ہے، فرضی مفتی ہیں جن کو شارع بنالیا گیا ہے اور آنحضرت علی اور قرآن کی کسوٹی پر ان فتووں کو نہیں پر کھتے۔اب ایک کتاب شائع ہوئی ہے الطاف حسین صاحب گورنر پنجاب کی۔جب پاکستان میں احمدیوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات پیش ہوتے تھے تو اس زمانے میں، اب بھی یہی دستور جاری ہے کہ پنجاب کے اٹارنی جنرل ایسا جاہلانہ مؤقف اختیار کرتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی کہ یہ اندھیرا چھوٹا کہاں سے ہے، پہلے مجھے پتا نہیں لگ رہا تھا۔میں کئی دفعہ کہتا تھا کہ کوئی بات ہے، کہیں نہ کہیں سے یہ اندھیر ضرور پھوٹ رہا ہے۔اب پتا چلا ہے کہ یہ گورنر الطاف حسین صاحب کے دماغ کی پیداوار ہے اور انہوں نے جس طرح اس کتاب میں رطب و یابس فتوے اکٹھے کر کے اسلام کا حلیہ