خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 317
خطابات طاہر جلد دوم 317 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء سامان کر دیئے ، غیروں کو تو دکھائی دے رہا ہے اور غیر اس کا اقرار کرنے لگے ہیں۔ان نو جوانوں کو پتہ نہیں کیوں یہ بات دکھائی نہیں دے رہی ؟ ایک مربی صاحب لکھتے ہیں کہ : " مخالفین کے ایک اجلاس میں بعض سر کردہ شیعہ احباب کو بھی مدعو کیا گیا اور جماعت احمدیہ سے متعلق کس طرح ان کو مٹایا جائے ، کس طرح ان کی راہ میں روکیں کھڑی کی جائیں، موضوع زیر بحث تھا۔اس موقعے پر ایک جرات مند شیعہ دوست بر ملا اس مجلس میں کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا جو تم نے پہلے کوششیں کی تھیں ان کے نتیجے تو دیکھ لو، ان کو تو سنبھال لو۔تم نے مرزا طاہر کو ملک سے ملک بدر کر دیا تھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہمارے سارے گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔“ اس نے کہا: تم کیا اور تمہاری کوششیں کیا؟ اپنے گھروں کو تو اب بچاؤ۔ہماری عورتیں ہمارے بچے بڑی محبت اور شوق سے اس کو دیکھنے اور سننے لگے ہیں۔کون ہوتا ہے جو اس راہ میں حائل ہوسکتا ہے؟ اس لئے جو پہلے کر بیٹھے ہو اسی کو بھگت لو، مزید کوششیں کوئی نہ کرنا۔“ مجھے اس پر حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ شعر یاد آ گیا ، جو اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے کہا تھا کہ نہ دکھائی دوں تو یہ فکر کر کہیں فرق ہو نہ نگاہ میں (ڈر عدن: ۷۱ ) تو اب تو اللہ تعالیٰ نے سب دنیا کو یہ نظارے دکھا دیئے ہیں ، اگر کسی کو ابھی بھی دکھائی نہیں دیتا تو اپنی نگاہ کی فکر کرے کہیں اس میں فرق نہ ہو۔اب میں اس ضمن میں ایک اور نصیحت کر کے اس مضمون کو ختم کروں گا، اب چند منٹ باقی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے ایک یہ غرض بھی بیان فرمائی تھی کہ آپس میں ملنے سے، ایک دوسرے سے تعلقات بڑھانے سے محبت بڑھتی