خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 316

خطابات طاہر جلد دوم 316 ہم آن ملیں گے متوالو بس دیر ہے کل یا پرسوں کی افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء تم دیکھو گے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی دید کے ترسوں کی ( کلام طاہر : ۳۷) یہ جو نظم ہے اس کے حوالے سے بسا اوقات پاکستان سے خصوصیت سے لوگ، خصوصاً نوجوان لڑکے مجھے لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کل اور پرسوں گزرے ہوئے تو دیر ہوگئی۔آپ کب آئیں گے؟ آپ تو کہتے تھے یہ جھوٹی باتیں نہیں نکلیں گی ، دشمن کی باتیں جھوٹی نکلیں گی۔تو پھر کیا بات ہے کہ آپ ابھی تک وہاں ہیں ؟ میں ان کو بتا تا ہوں کہ ٹیلی ویژن کے ذریعے خدا تعالیٰ نے مجھے جو آپ کے گھروں تک پہنچایا ہے یہ اللہ تعالیٰ نے میری عاجزانہ تمناؤں کا پھل ہی تو دیا ہے، میری بے قراریوں اور بے کسیوں پر اس طرح اپنی ستاری کا پردہ ڈالا ہے۔میں نے جوا ظہار کیا تھا یہ کوئی ایسی پیشگوئی نہیں تھی جس کی بناء کسی الہام پر ہو بلکہ خدا تعالی کی عمومی تقدیر پر تھی ، جو خدا کی راہ میں ہجرت اختیار کرتے ہیں خدا ضرور بالآخر کامیابی سے ان کو اپنے وطنوں کی طرف واپس لے کے آیا کرتا ہے، یہ وہ بات ہے جو لازماً ہو کے رہے گی۔اس کے دفاع میں میں کوئی عذر پیش نہیں کر رہا بلکہ آپ کو حقیقت بتا رہا ہوں۔جہاں تک کل اور پرسوں کی بات ہے، یہ تو محاورہ ہے، ایک دل کی تمنا ہے، اگر شعر اجازت دیتا تو میں آج چند لمحوں کی باتیں کرتا، کل اور پرسوں کی بجائے۔تو میری تمناؤں پہ تو نہ پہرے بٹھائیں، میری بے قرار یوں پر اس طرح ضرب تو نہ لگائیں کہ تم تو کہتے تھے کل، پرسوں آجائیں گے۔کہاں بیٹھے ہو، کیوں آنہیں رہے؟ میں تو ایک عاجز انسان ہوں، میری خواہش ہے ، میری محبت ہے، جو ان شعروں میں ڈھلتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کی نظر ڈالتا ہے اور وہ سامان فرما رہا ہے جس کے نتیجے میں ہماری دُوریاں قربتوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔آپ کیوں نہیں دیکھتے کس طرح خدا نے اپنے فضل کے ساتھ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے وہ سامان پیدا فرمائے جس کا یہ شعر مظہر ہے۔تم دیکھو گے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی دید کے ترسوں کی ٤ کثرت کے ساتھ لوگ لکھتے ہیں کہ جب ہم نے پہلی دفعہ دیکھا تو آنکھوں سے اس طرح آنسو بر سے جیسے موسلا دھار جھڑی لگ گئی ہو اور یہ نظارہ صرف پاکستان کا نہیں ساری دنیا سے اس کی خبریں مل رہی ہیں۔ابھی غانا کے نظارے آپ کے سامنے پیش کئے گئے ، وہاں بھی یہ حال ہے تو اللہ تعالیٰ نے تو اپنے فضل کے ساتھ معنوی طور پر اس پیشگوئی کو یا جواظہار تمنا تھا ، اس کو پورا کرنے کے