خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 26
خطابات طاہر جلد دوم 26 26 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء اور اس کے صادق و فادار نہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔کیا بد بخت وہ انسان 66 ہے جس کو اب تک پتا نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے“۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹۔صفحہ ۲۱) پھر فرمایا:۔” صادق تو ابتلاؤں کے وقت بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ آخر خدا ہمارا حامی ہوگا اور یہ عاجز اگر چہ ایسے کامل دوستوں کے وجود سے خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہے لیکن باوجود اس کے یہ بھی ایمان ہے کہ اگر چہ ایک فرد بھی ساتھ نہ رہے اور سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا اپنا راہ لیں تب بھی مجھے کچھ خوف نہیں۔میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔اگر میں پیسا جاؤں اور کچلا جاؤں اور ایک ذرے سے بھی حقیر تر ہو جاؤں اور ہر ایک طرف سے ایذا اور گالی اور لعنت دیکھوں۔تب بھی میں آخر فتحیاب ہوں گا۔مجھ کو کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو میرے ساتھ ہے۔میں ہرگز ضائع نہیں ہوسکتا۔دشمنوں کی کوششیں عبث ہیں اور حاسدوں کے منصوبے لا حاصل ہیں۔اے نادانو اور اندھو! مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو میں ضائع ہو جاؤں گا۔کس بچے وفادار کو خدا نے ذلت کے ساتھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کرے گا۔یقیناً یا د رکھو اور کان کھول کر سنو! کہ میری روح ہلاک ہونے والی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ پیچ ہیں۔میں کسی کی پرواہ نہیں رکھتا۔پھر آپ فرماتے ہیں۔میں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں۔کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا کبھی نہیں چھوڑے گا کیا وہ مجھے ضائع کر دے گا کبھی نہیں ضائع کرے گا۔دشمن ذلیل ہوں گے اور حاسد شرمندہ اور خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دے گا۔میں اس کے ساتھ وہ میرے ساتھ ہے کوئی چیز ہمارا پیوند تو ڑ نہیں سکتی اور مجھے