خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 286
خطابات طاہر جلد دوم 286 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء عرصہ دکھائی دیتا ہے، ازل کا عرصہ دکھائی دیتا ہے۔اس کے ہر ہر لمحے کے ہر ہر ذرے میں ، ہر ہر حصے میں خدا تعالیٰ کے احسانات جلوہ گر ہوئے ہیں اور اس نے کائنات کونئی شکل دی ہے اور ترقیات کی منازل کی طرف آگے بڑھایا ہے۔وہ تمام احسانات جو اس میں ارب سالوں کے عرصے پر پھیلے پڑے ہیں انسان کی ذات میں مجتمع کئے گئے ہیں اور ساری کائنات کو انسان کے لئے مسخر کیا گیا ہے۔پس جب یہ کہا جاتا ہے کہ تمہاری ذات کے تمہارے وجود کے ایک ایک ذرے میں جو خدا کے احسانات ہیں ان کا شمار ممکن نہیں تو اس میں ایک ادنی بھی مبالغہ نہیں ہے۔پھر فرماتے ہیں۔وو دوسرے یہ کہ بنی نوع کے حقوق کی بجا آوری میں کوتاہی کرنا۔“ توحید کامل کا یہ دوسرا پہلو ہے جس کو نظر انداز کر کے بڑی بڑی قوموں نے اپنی ہلاکت کے سامان کئے اور غریب قو میں بھی اس کو نظر انداز کر کے اپنے مستقبل کو تاریک تر کرتی چلی جارہی ہیں وہ ہے خدا کی مخلوق سے خدا کی خاطر محبت کرنا۔تو حید کے مضمون کو سمجھتے ہوئے تمام بنی نوع انسان کو خدا کے تعلق میں ایک قسم کی برابری کا درجہ دینا اور ہر دنیاوی تفریق کو اپنی نظر سے مٹادینا اور خدا کی خاطر خدا کے ہر بندے سے پیار کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کی تشریح کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں۔اور ہر ایک شخص جو اپنے مذہب اور قوم سے الگ ہو یا اس کا مخالف ہو اس کی ایذاء کے لئے ایک زہریلے سانپ کی طرح بن جانا اور تمام انسانی حقوق کو یکدفعہ تلف کر دینا ایسے انسان در حقیقت مردہ ہیں اور زندہ خدا سے بے خبر۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰) میں نے جب ہندوستان کا دورہ کیا مختصر، قادیان جلسہ کی خاطر گیا تھا لیکن وہاں میری بڑی بڑی ملاقاتیں مختلف دانشوروں سے بھی ہوئیں ، عوام الناس کی سطح پر ہوئیں ان سب کو میں نے اجتماعی تقریروں میں بھی اور ملاقاتوں کے دوران بھی اور دیگر ذرائع سے بھی ایک ہی پیغام دیا ہے کہ توحید کی طرف لوٹ آؤ اور توحید کا یہ تقاضا ہے کہ تم اپنے آپس کے تعلقات کو درست کرو۔ان کے بڑے بڑے دانشوروں سے جب گفتگو ہوئی تو پہلے وہ یہ سمجھے اپنی غلطی اور نا سمجھی کے نتیجے میں، ویسے تو بڑے بڑے سمجھدار تھے لیکن بڑے بڑے سمجھدار بھی بعض اندازوں کی غلطیاں کر جاتے ہیں کیونکہ ان