خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 274

خطابات طاہر جلد دوم 274 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء برداشت نہیں کرتا، یہ وہ رنگ ہے جب تک کپڑا صاف اور پاک اور ہر داغ سے منزہ نہ ہو جائے اس پر نہیں چڑھتا۔اس لئے خدا کی توحید کے علمبرداروں کو ہمیشہ یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اپنے نفس کو دلی خیالات سے پاک اور صاف کرتے رہیں، اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ ہمارے ہاں اور کون کون سے بت ہیں جو بھی توڑنے والے باقی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان ظاہری بتوں کا ذکر بھی فرمایا اور باطنی بتوں کا ذکر بھی فرمایا۔فرماتے ہیں۔خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس۔۔۔“ اور یہ اپنا نفس انسان کی عبادت میں سب سے بڑا معبود بن کر اس کے لئے ظاہر ہوتا ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ کیسے بد نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی نفسانی تمناؤں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور آج سب سے بڑا خدا تعالیٰ کی توحید پر ڈاکہ ڈالنے والا بت ، ویسے تو خدا کی توحید پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈال سکتا مگر ان معنوں میں ڈاکہ ڈالنے والا کہ خدا کے بندوں کو ہتھیا کر لے جانے والا ، خدا کے بندوں کو خدا سے اپنانے والا بت اگر کوئی ہے تو وہ انسانی نفس کا بت ہے اس سے بڑا مکر وفریب والا اور کوئی بت نہیں۔پھر فرماتے ہیں۔۔۔۔یا اپنی تدبیر اور مکر وفریب ہو( یہ اسی بت کی پیداوار ہیں جو انسانی نفس کا بت ہے ان سب سے ) منزہ سمجھنا، ان سب سے پاک سمجھنا ) اور اُس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا ، کوئی رازق نہ ماننا۔۔۔“ کسی مشکل میں مبتلا ہوں ، کوئی کام در پیش ہو، کوئی مرحلہ زندگی کا سامنے کٹھن آئے ہر بات میں اگر انسان خالصہ خدا کے حضور گہرے اقرار اور صدق وصفا کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ اے خدا! تو میرا قادر خدا ہے اور یہ باقی سب وسیلے اگر میں اختیار کرتا ہوں تو تیری ہدایت اور تیرے ارشاد پر ان کو اخذ کرتا ہوں، ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں یہ میرے خدا نہیں ہیں۔یہ وہ واضح سوچ ہے جس کے بغیر انسان کی ذات میں تو حید ثبات نہیں پکڑ سکتی اور زندگی کے ہر فیصلے سے اس سوچ کا گہرا تعلق ہے۔روزمرہ کی زندگی میں ہم ہمیشہ بارہا آزمائے جاتے ہیں اور بسا اوقات خدا کے موحد بندے بھی بدنصیبی میں غیر شعوری حالت میں دوسرے بتوں کو بھی سجدے کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر کعبتہ اللہ کی طرف بھی سفر جاری رہتا ہے۔