خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 273
خطابات طاہر جلد دوم 273 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء جب انہیں کہا جاتا ہے کہ داتا کے مزاروں میں کچھ نہیں ، اس خدا سے مانگو جو تمہارے داتا کا داتا تھا جو تمام کائنات کا داتا تھا تو وہ تمسخر کرتے ہوئے منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وزارتیں بھی اسی داتا سے ملتی ہیں اور ولایتیں بھی اسی داتا سے ملتی ہیں اور اولادیں بھی اسی داتا سے ملتی ہیں۔یہی ان کی مقدرت کی حد ہے اس سے آگے نہیں بڑھتے اور پھر بھی حضرت محمد مصطفی مے کے چشمہ توحید سے منسوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وو۔۔تم غلطی پر ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اسی طرح مانتے آئے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ کیا اتنی بات کہہ کر یہ اپنے آپ کو بری کر سکتے ہیں؟ نہیں بلکہ قرآن شریف کے موافق اور خدا تعالیٰ کی سنت قدیم کے مطابق اس قول سے بھی ایک حجت ان پر پوری ہوتی ہے جب کبھی کوئی خدا کا مامور اور مرسل آیا ہے تو مخالفوں نے اس کی تعلیم کو سن کر یہی کہا ہے مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِى أَبَا بِنَا الاَوَّلِينَ (مومنون: ۲۵) (ملفوظات جلد۲ صفحه: ۱۸۸تا۱۸۹) کہ ہم نے تو اپنے پہلے آبا واجداد میں کبھی ایسی باتیں نہیں سنی تھیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یادر ہے کہ حقیقی تو حید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بُت ہو، خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا۔“ ہر باطل خدا کے انکار سے اسلام کا آغاز ہوتا ہے۔لا الہ الا اللہ ، جب تک لا اللہ کا اثبات نہ کریں، جب تک لا الہ کے مفہوم اور اس کی معرفت کو خود سمجھ کر اپنی ذات میں جاری نہ کریں اس وقت تک الا اللہ کا اقرار بالکل بے معنی ہے کیونکہ خدا کا رنگ دوسروں کے ساتھ مل کر نہیں چڑھا کرتا۔یہ وہ رنگ نہیں ہے جس کو آپ ہر رنگے ہوئے کپڑے پر ڈال دیں تو کچھ نہ کچھ اپنا رنگ اس پر دکھائے گا۔یہی توحید کا مفہوم ہے کہ یہ رنگ تنہائی چاہتا ہے، یہ اکیلا ہے۔یہ رنگ کسی شریک کو