خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 256

خطابات طاہر جلد دوم 256 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء اس عزت کی خاطر نہیں کیونکہ مومن کو دنیا کی عزتوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ محض عجز اور انکساری کے ساتھ خدا کے حضور اپنا سب کچھ حاضر کر دینے کے لئے اگر ایسے واقفین ہمیں ملیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد ہی ان علاقوں میں نہ صرف یہ کہ تعداد کے لحاظ سے لوگ اسلام میں داخل ہوں گے بلکہ اصل مقصد حاصل ہو گا۔تعداد بڑھانا مقصد نہیں ہے اُن کی ذاتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا مقصد ہے۔ایسے لوگوں کو خدا والا بنانا مقصد ہے۔اُن کو اسلام کے اعلیٰ اخلاق سکھانا مقصد ہے۔ان کو بنی نوع انسان کا ایک بہت ہی اعلی پایہ کا جزو بنانا مقصد ہے۔ان مقاصد کو پیش نظر رکھیں تو محض تعداد سے آپ راضی نہیں ہو سکتے اور آپ کو راضی نہیں ہونا چاہئے۔اس لئے جب یہ لوگ رپورٹیں بھیجتے ہیں تو مجھے یہ فکر لاحق ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مجھے خوش کرنے کے لئے اتنی بڑی تعداد لکھ دی۔پھر پتہ کرواتا ہوں پتا لگ جاتا ہے کہ سچ بات تھی۔محض مبالغہ نہیں تھا لیکن جب دوبارہ آدمی بھجواتا ہوں تو پتا چلتا ہے کہ جن جگہوں میں ہزار احمدی ہوئے تھے وہاں اکثر غافل ہی ہو گئے ہیں۔ایک دفعہ وقتی جوش آیا انہوں نے قبول کر لیا پھر وہ ٹھنڈے پڑ گئے۔پوچھو تو اپنے آپ کو احمدی کہتے تھے مگر جیسے احمدی ویسے غیر احمدی ، جیسے مسلم ویسے غیر مسلم کوئی کردار میں ایسا نمایاں فرق نہیں پڑا۔عبادت کے نقطہ نگاہ سے ان کو کوئی فیض حاصل نہیں ہوا۔تو اس احمدیت کا کیا فائدہ۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ ان کو جب تک پہلے اصلاح نہ کر لیں ، قبول نہ کریں۔قبول کریں اور پھر اصلاح ضرور کریں کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں اس کی ہی تعلیم دی ہے۔اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجَالُ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ (انصر ۲۰تا۴) لوگ جوق در جوق فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے تو یہ نہ کرنا کہ ان کی راہ روک دینا اور کہنا پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ پھر ہم تمہارے لئے کچھ کریں گے۔تمہیں داخلے بند کرنے کا حق ہی کوئی نہیں ہے۔إذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ کہ یہ اُن لوگوں کی مرضی ہے۔ان کا اختیار ہے، جب چاہیں جس طرح چاہیں شوق سے آئیں اور اسلام میں داخل ہوں۔تمہارا کام یہ ہے کہ استغفار کرو اُن کے لئے بخشش طلب کرو اور خدا کی تسبیح و تحمید کرو اور اس رنگ میں ان کی تربیت کرو کہ جیسے تم خدا والے ہو۔وہ بھی خدا والے بن جائیں۔پس تربیت کا ایک مستحکم نظام اس کے ساتھ جاری ہونا چاہئے اور ہر جگہ جہاں خدا کے فضل سے