خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 235

خطابات طاہر جلد دوم 235 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء کے انتظام کر دیا تھا۔یعنی مؤمن کا کام ہے کہ جس حد تک اُسے استطاعت ہو، جس حد تک توفیق ہو وہ ضرور کچھ نہ کچھ کرے۔پس جو ہمیں توفیق تھی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تابع ہم نے وہ سب کچھ کر دیا۔”اب ہمیں ضرورت نہیں جس کے مہمان ہیں وہ خود کرے گا۔اگلے دن آٹھ یا نو بجے جب چٹھی رساں آیا تو حضور نے میر صاحب کو اور مجھے بلایا۔چٹھی رسان کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈر ہوں گے جو مختلف جگہوں سے آئے تھے۔سوسو، پچاس پچاس روپے کے اور ان پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور ہیں مہمانوں کے صرف کے لئے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں۔آپ نے وصول فرما کر تو کل پر تقریر فرمائی کہ جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا اس سے زیادہ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر پورا تو کل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر 66 یقین ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے تو فور أخدا تعالیٰ بھیج ریویو آف ریلیجنز اُردو جنوری ۱۹۴۲ء صفحه ۴۴، ۴۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ابتدائی زمانے کا ذکر کرتے ہوئے ایک دیتا ہے۔شعر میں فرماتے ہیں:۔لفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكُلِي وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الأهالي (قصائد الاحمدیہ صفحہ :۱۲) کہ دیکھو ایک وہ وقت تھا کہ میرا گزارہ دستر خوان کے بچے ہوئے ٹکڑوں پر تھا۔مجھے اپنے گھر میں کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی اور مجھے دستر خوان کے چنے ہوئے کھانوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔جو کچھ بچ رہتا تھا وہ میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کھالیتا تھا۔وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الأهالي، اب دیکھو میں بڑے بڑے خاندانوں کا کھلانے والا بن گیا ہوں اور کیسا میراد نیا میں لنگر جاری ہوا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی لنگر کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: