خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 236

خطابات طاہر جلد دوم 236 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء اس کی بنیاد خدا کے مسیح موعود نے قائم کی ہے جس کو خدا نے یہ خبر دی ہے کہ تین سو سال کے اندر تیری جماعت ساری دنیا پر غالب آجائے گی اور تین سو سال میں یہ لنگر ربوہ میں نہیں رہے گا بلکہ تین سو سال کے بعد ایک لنگر امریکہ میں بھی ہوگا، ایک انڈیا میں بھی ہو گا، ایک جرمن میں بھی ہوگا، ایک روس میں بھی ہوگا، ایک چین میں بھی ہوگا، ایک انڈونیشیا میں بھی ہوگا، ایک سیلون میں بھی ہوگا، ایک برما میں بھی ہوگا، ایک شام میں بھی ہوگا، ایک لبنان میں بھی ہوگا، ایک ہالینڈ میں بھی ہو گا غرض دنیا کے ہر بڑے ملک میں یہ لنگر ہوگا“۔(سیر روحانی جلد سوم صفحہ ۱۳۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین سوسال کے بعد جن ملکوں میں لنگروں کے جاری ہونے کی خبر دی تھی وہ آج ایک سوسال ہونے سے قبل ہی اکثر ملکوں میں پوری ہو چکی ہے۔وہ آخری جلسہ سالانہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں منعقد ہوا اور جس میں ایک بڑا لنگر جاری ہوا آج افریقہ کے مختلف ممالک میں بھی ہر جلسہ سالانہ پر اُس سے کئی گنا بڑے لنگر جاری ہوتے ہیں۔غانا میں بھی وہ لنگر جاری ہوتے ہیں، نائیجیریا میں ہوتے ہیں، سیرالیون میں بھی ہوتے ہیں اور گیمبیا میں بھی ہوتے ہیں۔اسی طرح یورپ کے مختلف ممالک میں بھی اُس سے بہت بڑے لنگر خدا تعالیٰ کے فضل سے جاری ہوتے ہیں اور نہایت عمدگی اور حسن انتظام کے ساتھ جاری رکھے جاتے ہیں، جرمنی میں بھی بہت ہی عظیم الشان لنگر مسیح موعود کا جاری ہو چکا ہے اور United Kingdom میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک بہت شاندار لنگر جاری ہو چکا ہے۔انڈونیشیا میں بھی یہ ہو چکا ہے، قادیان میں تو جاری ہی ہے۔ربوہ میں بھی آج تک یہ لنگر سارا سال اپنے فیض کے لحاظ سے جاری رہتا ہے۔گو جلسہ سالانہ کے مبارک ایام میں اس لنگر کے جاری کرنے پر قدغن لگادی گئی ہے مگر فیض کے لنگر دنیا میں کون بند کر سکتا ہے؟ ایک لنگر حکومت پاکستان نے بند کرنے کی کوشش کی تو ایک سو چھیں ممالک میں مسیح موعود کے لنگر جاری ہو گئے۔ایک وہ وقت تھا کہ لنگر کے اخراجات کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی زوجہ مطہرہ کے زیور بیچنے پڑے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان زیوروں ہی کی برکت ہے جو آج ساری دنیا کے لنگروں کے بے شمار اخراجات کی صورت میں ہمیں سال بہ سال عطا ہوتی چلی جارہی ہے اور