خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 177
خطابات طاہر جلد دوم 177 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء مذہبی جماعت کے جلسے میں جس کا کوئی اپنا ملک نہ ہو۔بعض عظیم سیاسی ملک اپنے نمائندے بھیجیں محض اس جلسے میں شرکت کرنے کی غرض سے دور دراز کی مسافت کر کے وہاں پہنچیں۔یہ ان ملکوں کا ایک عظیم احسان ہے ہم پر لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نشان بھی ہے۔ان کے آنے پر ان کو سو بسم اللہ کہتے ہیں، کھلے ہاتھوں سے ان کو سینے سے لگاتے ہیں بسر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں، ان کا استقبال کرتے ہیں اور ہم ان کو یقین دلاتے ہیں کہ انشاء اللہ عالمگیر جماعت ان کے اس احسان کو اور ان کی اس انکساری کو اور ان کی خیر سگالی کے جذبے کو نہیں بھولے گی اور دعاؤں میں یادر کھے گی اور دعاؤں سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ نہیں ہے جو ہم ان آنے والے مہمانوں کو پیش کر سکتے ہوں۔لیکن یہ معزز ہستیاں بہت معزز ہیں مگر دنیا کے بادشاہوں کی نمائندہ ہیں۔اب میں ایک ایسے شخص کا تعارف آپ سے کروانا چاہتا ہوں جو آسمانی بادشاہ کے نمائندہ کے طور پر آج یہاں آیا ہے۔یعنی خلیفہ وقت کے طور پر میں یہ بات نہیں کر رہا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی کی بات کر رہا ہوں۔مجھے چند دن پہلے یہ خیال آیا کہ جہاں دنیا کے بڑے بڑے معزز دوست تشریف لائیں گے ان کی عزت افزائی ہمارا فرض ہے اور ان کا حق ہے لیکن جماعت کہیں یہ بھول نہ جائے کہ سچی عزت آسمان کی عزت ہوا کرتی ہے اور کچی عزت وہی ہوتی ہے جو بچے مذہب سے وابستہ ہو اس لئے یہ صد سالہ جشن تشکر کیسا جشن تشکر ہوگا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کا کوئی صحابی شریک نہ ہو۔چنانچہ میں نے فوری طور پر ربوہ کہلا کے بھجوایا کہ جس طرح بھی ہو سکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے جو چند گنتی کے صحابہ زندہ ہیں ان میں سے کسی ایک کو یہاں پہنچایا جائے۔مولوی محمدحسین صاحب صحابی اپنی صحت کی کمزوری کی وجہ سے اس سے پہلے انکار کر چکے تھے مگر جب میرا پیغام انہوں نے سنا تو بڑے شوق سے لبیک کہی اور کہا میری ہر تکلیف بے حیثیت ہے اگر چہ میری حالت یہ ہے کہ نصف نصف گھنٹے کے بعد مجھے پیشاب کرنے کے لئے جانا پڑتا ہے لیکن خلیفہ وقت کا پیغام مجھے پہنچا ہے میں اس پر لبیک کہتا ہوں جو کچھ مجھ پر ہو میں وہاں ضرور پہنچوں گا۔اس لئے یہ معزز مہمان آج ہمارے درمیان ہیں۔میں آخر پران کا تعارف کرواتا ہوں اور ان سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے ساتھ کی کرسی پر آ کر تشریف رکھیں۔یا درکھیں کہ کپڑوں سے مراد صحابہ بھی ہوا کرتے ہیں۔جس طرح قرآن کریم میں بیوی کو مرد کے کپڑے اور مرد کو بیوی کے کپڑے کہا گیا ہے اس لئے یہ خیال نہ کریں کہ اس الہام کا معنی صرف ظاہری کپڑے ہیں۔میرے نزدیک اس کے اول معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ