خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 133
خطابات طاہر جلد دوم 133 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء ان آیات میں اس مضمون کو بھی بار بار بیان فرمایا گیا ہے۔مومنوں کے متعلق تو یہ فرمایا کہ وہ سارے کے سارے گویا اس بات کے لئے وقف ہو چکے ہیں کہ وہ نیک کاموں کی نصیحت کرتے چلے جاتے ہیں اور برائیوں سے روکتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ خوبی صرف انہی میں نہیں غیروں میں بھی ہے۔ان میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو ان کاموں کے لئے وقف ہیں۔چنانچہ اگر چہ یہاں بہت سی اخلاقی خرابیاں ہیں لیکن آپ دیکھیں گے کہ خودان میں بہت سے شریف النفس ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں اخلاقی خرابیوں کے خلاف پر چار کرنے کے لئے۔ایسی ایسوسی ایشنز (Associations) قائم کی ہوئی ہیں جن کو وہ اپنے خرچ سے چلاتے ہیں اور ہر طرح سے پروپیگنڈا کر کے نصیحت کر کے اپنی قوم کو برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر نیکیوں کی تعلیم دینے والے ہیں۔یہ شیوہ قرآن کریم کے مطابق سب سے زیادہ ، اتم طور پر ، سب سے زیادہ کامل طور پر مسلمان میں ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اس پہلو سے بھی بہت سے مسلمان آج محروم دکھائی دے رہے ہیں۔برائی دیکھتے ہیں تو ان کے دو قسم کے رد عمل ہیں۔اگر وہ طاقت میں ہوں اور حکومت ان کو حاصل ہو تو تلوار کے زور سے اور تشدد کے ساتھ اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حالانکہ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ میں تو تشدد کا کوئی اشارہ بھی موجود نہیں اور يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کے کلام پر جبر کا کوئی بھی سایہ نہیں اس لئے ایسے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ جہاں جبر کے ذرائع ہاتھ میں نہ ہوں وہاں برائی کے معاملہ میں آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔پاک کلام کے ذریعہ اور دردمند نصیحت کے ذریعہ لوگوں کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے اور یہی حال اکثر ان لوگوں کا ہے جو اسلام ہی نہیں بلکہ مشرق کے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے مغربی قوموں میں آکر آباد ہوئے ہیں۔یہ جلسہ چونکہ زیادہ تر اہل یورپ سے تعلق رکھنے والوں کا جلسہ ہے اس لئے ان کو میں بطور خاص یہ نصیحت کرتا ہوں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جہادان پر فرض ہے۔اس کے لئے اس بات کا انتظار ضروری نہیں کہ پہلے کوئی اسلام قبول کرے پھر آپ یہ کام شروع کریں۔سوسائٹی میں ہر طرف نیک بات کی نصیحت کرنی شروع کریں، برائیوں سے روکنے لگیں اور وہ لوگ جو ان کاموں میں پہلے ہی منسلک ہیں ان کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے