خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 132

خطابات طاہر جلد دوم 132 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء خوبیوں سے دامن بچا جاتے ہیں۔ان قوموں میں عام انسانی سطح پر بہتر انصاف دکھائی دیتا ہے اس انصاف کو قبول نہیں کرتے ، عام انسانی سطح پر ان میں بہت زیادہ سچائی پائی جاتی ہے۔شاذ کے طور پر آپ کو ان میں ایسا آدمی دکھائی دے گا جو روز مرہ کی زندگی میں جھوٹ بولنے کا عادی ہو۔ہاں جب جرم کرتا ہے اور پکڑے جانے کا خوف ہوتا ہے تو چونکہ تہذیب سطحی ہے اور خدا پر گہرے اعتقاد کے نتیجہ میں یہ سچائی نہیں بلکہ ایک تمدنی سچائی ہے اس لئے اس کے نتیجہ میں وہ ایسے ابتلاء میں پڑ کر نا کام ثابت ہوتے ہیں اور عدالتوں میں یا پولیس کے سامنے یا دیگر معاملات میں جہاں پکڑے جانے کا خوف ہو، اپنی کمپنیوں کے سامنے ہو یا کسی اور جگہ وہ جھوٹ سے کام لینے سے پر ہیز نہیں کرتے لیکن اس پہلو سے بھی اکثر مشرقی ممالک سے ان کا نمونہ بہتر ہے۔جتنا جھوٹ بعض مشرقی ممالک میں ایک دن میں بولا جاتا ہے اتنا بعض مغربی ممالک میں ایک سال بھر میں بھی نہیں بولا جاتا اور یہ امر واقعہ ہے۔اگر قرآن کریم کی تعلیم پر عمل پیرا ہوں تو مسلمانوں کے لئے کھلم کھلا ایک لائحہ عمل یہ تھا کہ اپنی زبان کو بد اخلاقی سے بچاؤ سب وشتم سے محفوظ رکھو، ان کے ساتھ گفتگو میں متانت اختیار کرو، شرافت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔یاد رکھو کہ ان میں بہت سی برائیاں ہیں ان برائیوں سے پر ہیز کرو، ان میں مبتلا نہ ہو اور یا درکھو کہ ان میں بعض خوبیاں بھی ہیں، بعض نہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ان میں خوبیاں بھی ہیں مگر ان میں سے تھوڑے لوگ ہیں جو ان خوبیوں پر قائم ہیں ان خوبیوں سے تم نے قطع تعلق نہیں کرنا بلکہ وہ خوبیاں خود تمہاری اپنی ملکیت ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جن کا تمام تر کلام وحی الہی پر مبنی تھا اور ایک ذرہ بھی آپ کے کلام کا ایسا نہیں تھا جو نفس کے سرچشمہ سے پھوٹا ہو۔آپ نے فرمایا الحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِن ( ترندی کتاب العلم حدیث نمبر : ۲۶۱) حکمت کی بات ، اچھا کلام مومن کی گم شدہ اونٹنی کی طرح ہے وہ اسے بے تکلف اس طرح سے قبول کرے جیسے کہ وہ اس کی اپنی ہی چیز تھی جو گم ہو چکی تھی۔تو وہ اخلاق حسنہ جن کو قرآن کریم پیش فرماتا ہے، جن کو حضرت اقدس مد مصطفی اللہ نے ایک حسین صورت کی شکل میں ڈھالا وہ اخلاق آپ کو جہاں بھی غیر قوموں میں دکھائی دیتے ہیں ان کو اپنا نا آپ کا فرض ہے، ان کو تسلیم کرنا آپ کا فرض ہے اور جس حد تک آپ کو توفیق ہے ان کو اختیار کرنا آپ کے لئے ضروری ہے۔برائی سے دامن بچا کے چلیں اور خوبیوں کو اپناتے چلے جائیں اور پھر نیکیوں کی تعلیم دیں اور برائیوں سے روکیں۔