خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 131
خطابات طاہر جلد دوم 131 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء جہاں خوبیاں دیکھو وہاں ان خوبیوں کا اقرار کرنا ہوگا۔اس اصول کو اگر ہم اچھی طرح سمجھ لیں اور مضبوطی سے اس سے چمٹ جائیں تو مغربی دنیا میں آنے والے اس سے بہت سا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ان قوموں میں کچھ خوبیاں ہیں۔ان خوبیوں کو ان سے سیکھیں اور کچھ برائیاں ہیں اور اکثر برائیاں ہیں۔ان اکثر برائیوں سے پر ہیز کریں اور اپنا دامن بچا ئیں لیکن برائیوں سے بچتے ہوئے ان کی خوبیوں سے اغماض کر جانا اور ان سے احتراز کر جانا یہ اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ شدید نقصان دہ ہے۔چنانچہ یہاں آنے والی غیر قوموں کا جب آپ تجزیہ کرتے ہیں تو اکثر بالکل برعکس صورت نظر آ رہی ہے اس صورت سے جو قرآن کریم پیش فرما رہا ہے۔وہ منہ سے ان کو گالیاں دیتے ہیں، ہر بات میں مین میخ کرتیہیں اور ہمیشہ مسلسل ان قوموں کے خلاف نفرت کی تعلیم دے رہے ہوتے ہیں۔باوجود اس کے کہ ان ملکوں میں رہتے ہیں ان کے انسانی امن کے ماحول سے استفادہ کر رہے ہوتے ہیں، ان کے ان قوانین سے استفادہ کر رہے ہوتے ہیں جو مذہب اور مذہب میں تفریق نہیں کرتے اور ہر انسان کے لئے برابر اطلاق پاتے ہیں۔اس کے باوجود مسلسل ان کے خلاف پرو پیگنڈا، ان کو گالیاں دینا ، ان کو جھوٹا کہنا، ہر قسم کی برائیاں ان کی طرف منسوب کرنا۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مشرق کی آزادی کا ایک نشان ہے۔ہر بات میں مغرب کو ذلیل قرار دو اور جھوٹا اور غاصب قرار دو یہ اس بات کی علامت ہے کہ مشرق آزاد ہو چکا ہے لیکن یہ نہیں جانتے کہ ان کا عمل ان کی اس بات کو جھٹلا رہا ہوتا ہے اور قرآن کریم سے لاعلمی کے نتیجہ میں وہ دوہرے نقصان میں مبتلا ہور ہے ہوتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کی اکثریت آپ کو ان کے ساتھ رقص وسرود میں بھی مصروف دکھائی دیتی ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی اکثریت ان کے ساتھ شرابیں پیتی ہے اور جوئے کھیلتی ہے اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم دولتوں کو بعض دفعہ ایک ایک رات میں اس طرح لٹا دیتی ہے کہ اگر وہ جوئے پر ضائع کی ہوئی رقم غریب قوموں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کی جاتی تو بعض غریب ملکوں کی سال بھر کی روٹی پوری ہو سکتی تھی بعض غریب ملکوں میں عظیم الشان شفا خانے قائم ہو سکتے تھے۔پس ایک طرف گالیاں دے کر قرآن کی اس تعلیم کے خلاف بغاوت کرتے ہیں وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ كه ان کے فرضی خداؤں کو بھی گالیاں نہ دو اور ایک طرف ان کی برائیوں کو قبول کر لیتے ہیں اور ان کی