خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 121

خطابات طاہر جلد دوم 121 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء اپنی دعائیں شامل کر دیں کہ اللہ ان کو ظلم اور بربریت سے نجات بخشے اور ایسی حکومت سے نجات بخشے جو تمام دنیا میں اسلام کی نہایت بھیانک تصویر کھینچنے پر کمر بستہ ہو چکی ہے اور انتہائی بدنامی کا موجب بن رہی ہے۔ہمارے پاس ہم درویشوں کی دعائیں ہی ہیں۔پس دعائیں کریں احمدیت کے مستقبل کے لئے دعائیں کریں اُن احمدیوں کے لئے دعائیں کریں جوظلموں کا نشانہ بنائے گئے ، اُن ظالموں کو دعادیں کہ خدا ان کو ظلم سے ہاتھ روکنے کی توفیق بخشے جوان احمدیوں کو ظلم کا نشانہ بنارہے ہیں۔دنیا کے تمام عوام جو کسی نہ کسی رنگ میں ظلم کی چکی میں پیسے جارہے ہیں ان سب کے لئے دعائیں کریں۔آج شرف انسانیت کا علم آپ کے ہاتھوں میں ہے، آج آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی ضمیر کی آزادی کا علم ہرلمحہ ہر صورت میں آپ بلند کئے رکھیں گے۔اس لئے یہ محض ایک دنیا کے دکھاوے کی بات نہیں ہے اگر فی الحقیقت اس علم کو بلند اور تاجو رکرنا ہے اور تمام دنیا کو فتح مند کرنا ہے تو دعاؤں سے خدا سے مدد مانگیں اور گریہ وزاری سے خدا سے مدد مانگیں اور دعا کریں کہ آج احمدیت کو اللہ تعالیٰ یہ توفیق بخشے کہ تمام دنیا کے مظلوموں کی مدد کرے، تمام دنیا کے مظلوموں کی نجات کا باعث بنے اور تمام دنیا کو اسلام سے دوری کے ظلم سے نجات بخشنے میں ممد و معاون ثابت ہو۔اللہ ہماری ان کوششوں کو قبول فرمائے ، آنے والوں کے خلوص کو بھی قبول فرمائے اور پیچھے رہنے والوں کی حسرتوں کو بھی قبول فرمائے۔اس ملک کے یعنی انگلستان کے باشندوں کی خدمتوں کو بھی قبول فرمائے اور ان کو بہترین جزا دے۔جنہوں نے اسلام آباد (U۔K) میں آپ کے آنے کے لئے بڑی محنت کی ہے، بڑے لمبا عر صے تک بہت ہی پیار اور محبت سے بڑوں نے اور چھوٹوں نے جوانوں نے اور بچوں نے بھی عورتوں نے بھی اور مردوں نے سب نے یکساں بے حد خلوص اور محبت کے ساتھ خدمت کے ایسے نمونے دکھائے ہیں کہ اس ملک آزادترقی یافتہ ملک کے لوگ بھی تصور نہیں کر سکتے کہ دنیا میں کوئی قوم اتنی عظیم الشان بھی ہو سکتی ہے کہ ایک مقصد کی خاطر بغیر کسی دباؤ اور بغیر کسی لالچ کے اتنی عظیم الشان خدمت سرانجام دے سکتی ہے۔چنانچہ ابھی کچھ عرصہ پہلے یہاں اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کا ایک اجلاس ہوا اور اُس اجلاس میں مختلف پرانے طلباء جو یہاںStreet ہائی سکول کہلاتا تھا اس سکول کے پرانے طالبعلم تھے ، اب بڑے بڑے عہدوں میں مختلف کاموں میں وہ