خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 119

خطابات طاہر جلد دوم 119 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء یہ ہے، 1985ء کی بات ہے مجھے ایک دفعہ انہوں نے قید خانے میں ڈال دیا۔قید خانے میں میں نے بڑے بڑے حاجی دیکھے جو چرس سمگل کرنے کے جرم میں قید تھے، بڑے بڑے جبہ پوش دیکھے جو نہایت بھیانک جرائم کے نتیجے میں قید تھے اور طرح طرح کے مجرم دیکھے مگر سارے قید خانے میں مجھے احمدی کوئی نظر نہیں آیا، مجھے خیال آیا کہ جس کو کہتے ہیں سب سے گندی جماعت ان کا ایک آدمی بھی قید میں نہیں“۔اس کو یہ خیال نہ آیا کہ اگر احمدی قیدی ڈھونڈنے ہیں تو پاکستان کا سفر اختیار کرے وہاں بھی جرموں کے نتیجے میں نہیں بلکہ خدائے واحد سے محبت رکھنے کے جرم میں قید ہوئے ہیں۔بہر حال انہوں نے جب یہ واقعہ دیکھا تو کہتے ہیں میرے دل میں ایک کریدی لگ گئی کہ دیکھوں تو سہی یہ کون لوگ ہیں، چنانچہ جب میں نے باہر آ کر آپ کے مربی سے اور دوسرے احمدیوں سے رابطہ پیدا کیا تو اُس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھ عطا فرمائی اور پھر میں نے اس کے نتیجے میں ایک حیرت انگیز پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق پائی۔چونکہ وہ جرم سے تو بہ کر چکے ہیں اس لئے اُس کے نتیجے میں جو نا جائز گندی آمدن تھی وہ ختم ہوگئی اور وہ غریب ہو گئے اور حالت یہ ہوئی ان کی کہ چندے دینے کا شوق اُس وقت آیا جب پیسے نہیں تھے۔ایک صرف موٹر سائیکل بچا ہوا تھا حاضر ہو کر وہ موٹر سائیکل پیش کر دیا کہ میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں یہ تم لے لو اور اس موٹر سائیکل کے ذریعے سارے علاقے میں تبلیغ کرو۔آخر پر میں حکومت پاکستان کے شکریہ کا ایک اعلان کرنا چاہتا ہوں ، جو بڑا دلچسپ شکریہ ہے اور اس شکریہ میں ہم سب شامل ہیں۔غانا کے امور دفاع کے نگران اعلیٰ جو غانا حکومت کے اساسی رکن ہیں یعنی الحاج اور میں مہاما 1985ء کے جلسہ سالانہ میں سالٹ پانڈ Saltpond تشریف لائے اور اُس جلسے میں یعنی احمدیت کے جلسے میں انہوں نے تقریر کی۔اس تقریر میں انہوں نے ایک نہایت دلچسپ واقعہ بیان کیا۔وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ دنوں پاکستانی سفیر مس ایس۔کے جان صاحبہ جب اپنے مشن کی تکمیل کے بعد واپس پاکستان تشریف لے جارہی تھیں تو غانا کے صدرمملکت نے ان کو فون پر یہ پیغام دیا کہ آپ نے یہاں قیام کے دوران بڑا اچھا نمونہ دکھایا ہے، میں چاہتا