خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 114

خطابات طاہر جلد دوم 114 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء کے نتیجے میں وہاں احمدی دین اسلام کو چھوڑ چھوڑ کر ارتداد اختیار کرنا شروع کر دیں گے ، ہرگز ممکن نہیں، ہرگز ممکن نہیں اور ہر گز یہ ممکن نہیں۔جس طرح پاکستان میں مخالفت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بکثرت لوگ احمدیت کے متعلق جستجو ر کھنے لگے ہیں اور زیادہ قریب آنے لگے ہیں اسی طرح باہر کی دنیا میں بھی مخالفت یہی اثر دکھاتی ہے۔ہندوستان کی مخالفت کا میں نے ذکر کیا وہاں کے ایک اور صوبہ مغربی بنگال میں موضع ہتھیاری کے متعلق یہ اطلاع ملی کہ وہاں جماعت کی اس تبلیغ کے نتیجہ میں شدید مخالفت شروع ہو گئی اور گھر جلانے اور لوٹ لینے کی دھمکیاں ملیں لیکن وہاں کے حاکم نے سخت رویہ اختیار کیا اور کہا کہ ایسا نہیں کیا جائے گا اور امن میں خلل پیدا کیا گیا تو قانون حرکت میں آئے گا اور ہرگز غیر منصفانہ کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی“۔یہ جب رپورٹ مجھے ملی تو فی الحقیقت میرا سر شرم سے جھک گیا کہ وہ تو ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والا ایک فرمانروا تھا اس مذہب کا، مذہب ایک حکمران تھا جو تنگ نظری سکھاتا ہے جو عصبیت سکھاتا ہے اگر وہ یہ کہتا کہ ہرگز احمدیوں کو غیروں میں تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو کسی حد تک یہ بات قابل فہم تھی لیکن اسلام کی طرف منسوب ہو کر اتنا بھی نہ کر سکے، جو یہ ہندو حاکم کرتا ہے اور انصاف کے وہ تقاضے بھی پس پشت ڈال دیئے جو ایک عام دہر یہ حکمران بھی اختیار کرلیا کرتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا اللہ کا فضل اس مخالفت کے بعد آنا ہی تھا چنانچہ وہاں کی جماعت نے بڑی خوشی سے یہ اطلاع دی کہ اس علاقے میں احمدیت ایک عرصے سے رکی پڑی تھی اس مخالفت کے بعد خدا کے فضل سے سولہ نئی بیعتیں ہو چکی ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی تقدیر ہمیں یہ بتارہی ہے اور بار بار اس بات کی یاددہانی کروارہی ہے کہ تم نور سے وابستہ ہو کر اندھیروں سے نہیں ڈرو گے۔تم وہ ہو کہ اگر اندھیروں کا سینہ چیرو گے تو وہاں سے خدا نور کے سوتے بہارے گا تم وہ ہو جو چٹانوں کا سینہ چیر کر حقیقتا دودھ کی نہریں نکال کر لا سکتے ہو، فرہاد کے متعلق تو محض یہ قصے ہیں، فرضی باتیں ہیں لیکن فی الحقیقت آج احمدیت کی تاریخ میں عملاً ہم یہ ہوتا دیکھ رہے ہیں کہ سنگلاخ زمینوں سے بھی احمدیت اسلام کے نور کی دودھیا نہریں بہا رہی ہیں اور ایک جگہ نہیں، دنیا کے ہر ملک میں یہ واقعات ہو رہے ہیں اور ان میں تیزی آتی چلی جارہی ہے۔اس