خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 110

خطابات طاہر جلد دوم 110 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء اندرون پاکستان کا تعلق ہے، وہاں بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوشخبری کے نتیجے میں آراء میں گہری تبدیلی اور بنیادی تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔پاکستان میں عوام الناس ایک اور نظر سے اب احمدیوں کو دیکھنے لگے ہیں۔اُن کو یہ دوطرفہ جنگ اب کھلی کھلی اس بات پر مرکوز نظر آتی ہے کہ احمدی کہتے ہیں کہ ہم نے کلمہ توحید کا بہر حال اعلان کرنا ہے جو چاہے مخالفت کرے اور غیر احمدی علماء کہتے ہیں کہ ہم نے کلمہ تو حید نہیں پڑھنے دینا اور اس کی ہر وہ سزا دیں گے جو سزا کفار مکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں کو دیا کرتے تھے۔جب میں یہ کہتا ہوں تو ایسی بات نہیں جو میں ان کی طرف منسوب کر رہا ہوں۔کوئٹہ کی عدالت میں بیان دیتے ہوئے وہاں کی جمعیت کے صدر، جو بلوچستان کی جمعیت ختم نبوت کے صدر ہیں انہوں نے ایک وکیل کے سوال کے جواب میں یہ اقرار کیا جوتحریری طور پر عدالت کی کاروائی کا حصہ بن چکا ہے کہ ہاں یہ درست ہے کہ ہم آج احمدیوں سے کلمہ توحید اور اذانوں کے سلسلے میں وہی سلوک کر رہے ہیں جو آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں کے ساتھ اس زمانے کے مشرکین مکہ کیا کرتے تھے۔یہ عدالت کی کارروائی لکھی ہوئی موجود ہے، ریکارڈ کا حصہ ہے،اخباروں میں اس پر تبصرے چھپے ہیں۔اگر میں آپ کو بتاؤں تو یہ جرم ہے، یہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ہے۔پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کی ایک نئی تعریف کی جارہی ہے، یعنی پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے، وہاں کے اخبار اگر اس کو شائع کریں تو حکومت کا محکمہ Cancer حرکت میں نہیں آتا کیونکہ ان کے نزدیک یہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا نہیں ہے۔وہ باتیں اگر وہ شائع نہ کریں تو حکومت کا متعلقہ محکمہ حرکت میں آتا ہے کہ یہ اتنی اچھی اچھی خبر میں احمدیوں کے خلاف، احمدیوں پر ظلم کی داستا نہیں تم شائع کیوں نہیں کرتے ، انہیں نمایاں شہہ سرخیوں سے کیوں طبع نہیں کرتے ، ان کی جواب طلبیاں ہوتی ہیں اور جو لوگ شائع کرتے ہیں ان کو پاکستان کے خزانہ سے رقمیں تحفہ کے طور پر پیش کی جاتی ہیں اور وہی خبریں اگر جماعت احمد یہ باہر کی دنیا تک پہنچا دے تو یہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ہے۔عجیب Cancer ہے کہ اپنے ملک میں نہیں، غیر ملکوں میں جا کے Cancer کرنا چاہتے ہیں۔کبھی ایسا Cancer بھی آپ نے دیکھا تھا کہ اپنے ملک کی حدوں میں تو نہیں کیا جارہا بلکہ اس