خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 85

خطابات طاہر جلد دوم 85 59 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء جماعت یکدم ایک ہوگئی اور خدا نے یہ فضل کیا کہ ایک ہوتے ہی پانچ بیعتیں ہوگئیں اور نو جوان بڑے اچھے احمدی ہوئے ہیں۔تو ہماری بدظنیاں ہیں فلاں قوم نہیں ہوتی ، فلاں جگہ نہیں ہوتی۔کام کریں، دعا کریں، تو کل کریں، مٹھاس پیدا کریں اپنی باتوں میں جو حق ہے تبلیغ کا اس طرح ادا کریں۔شکست دینے کے لئے نہیں جیتنے کے لئے ان کو ، دھکے دینے کے لئے نہیں اپنا بنانے کے لئے اس روح سے اگر آپ کام کریں گے تو ممکن نہیں ہے کہ آپ کی تبلیغ بے اثر جائے۔بیوت الحمد کا منصوبہ خدا کے فضل سے ہے، انشاء اللہ ۱۹۸۹ء تک ہمارا ارادہ ہے کہ سو کے قریب مکان بنا کر۔غرباء کو تحفتاً پیش کریں گے شکرانے کے طور پر سوسالہ جشن اس طرح منائیں گے ، ایک سو کا خیال تھا لیکن اب میرا خیال ہے دوسو تک بنا ئیں گے، انشاء اللہ اور قریباً160 غرباء کی ابھی تک اس منصوبے سے مدد ہو چکی ہے۔اس لئے جن لوگوں نے شرکت کی تھی ان کے لئے مبارک ہو۔ایسے حالات ہیں غربت کے وہاں کہ بعضوں کا گھر اس طرح کا ہے کہ باورچی خانہ نہیں ہے اپنے سونے والے کمرے میں وہ کھانا پکاتے ہیں اور غساخانہ نہیں ہے بعض گھروں میں بعض گھروں میں ٹائلٹ نہیں ہے کوئی، بیت الخلاء نہیں بعض گھروں میں بعض کمروں کی چار دیواری ہے چھت ہے ہی نہیں اور بعض گھروں کی کوئی حفاظت نہیں چوروں کی طرف سے، چار دیواری ہی کوئی نہیں تھی۔تو پہلے منصوبے کے حصے میں میں نے یہ ان کو ہدایت دی اس کمیشن کو کہ آپ یہ غریبانہ ضرورتیں تو فوراً پوری کریں اس میں انتظار نہ کریں اس سو سال کا، یہ بیچارے دکھوں میں مبتلا ہیں۔یہ خدا کو ہم کیا جواب دیں گے کہ ہم یہ انتظار کر رہے تھے کہ پانچ سال بعد یا چھ سال کے بعد پھر ہم ان کو دیں گے تو 160 سے زائد آدمی استفادہ کر چکے ہیں اور ابھی خدا کے فضل سے زمین خرید لی گئی ہے روپی بھی کچھ ہے، کچھ باقی بھی آپ انشاء اللہ ادا کر دیں گے، تو یہ جو تمنا ہے ہماری کہ دوسوغریب احمدیت کے سوسال کا پھل ان مکانوں کی صورت میں کھائیں انشاء اللہ وہ بھی پوری ہوگی۔اب آخر پر میں کلمہ سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور کچھ ایمان افروز واقعات بھی پاکستان میں جو یا دوسری دنیا میں بعض جگہ ہوئے ہیں وہ بھی بیان کرنا چاہتا ہوں۔ایمان افروز تو سارے معاملات ہی ہیں، جتنی بھی گفتگو ہے آج کی یہ ساری اللہ کے فضل سے ایمان افروز ہے لیکن بعض خاص طور پر نشانات ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کے، وہ بھی آپ کے علم میں نمونیہ آنے