خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 518
خطابات طاہر جلد اول 518 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2002ء صلى الله مجھے امید تھی کہ رسول اللہ ﷺ زندہ رہیں گے اور ہم سب کے بعد وفات پائیں گے۔پس اگر محمد مفوت ہو گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایسا نور رکھ دیا ہے کہ اس کے ذریعے تم ہدایت پاتے رہو صلى الله گے۔اللہ تعالیٰ نے محمد کو راہنمائی بخشی تھی کیونکہ ابو بکر رسول کریم ﷺ کے ساتھی اور غار میں بھی آپ کے ساتھ دوسرے فرد تھے۔پس وہ یقینا تمہارے امور کے متعلق مسلمانوں میں سب سے زیادہ اہل ہیں پس اُٹھو اور ان کی بیعت کرو۔اس سے قبل ثقیفہ بنی ساعدہ میں ایک گروہ آپ کی بیعت کر بھی چکا تھا۔چنانچہ عام لوگوں کی بیعت منبر پر ہوئی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دن رات ختم نہیں ہوں گے یعنی قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لات و عزمی کی پھر پرستش کی جائے گی۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! جب قرآن شریف کی یہ آیت اتری کہ وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دی اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ تمام دینوں پر اس دین کو غالب کرے خواہ مشرک اسے ناپسند ہی کریں“۔تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ غلبہ مکمل اور دائی ہے۔آپ نے فرمایا: غلبہ جب تک خدا چاہے گا رہے گا، پھر خدا تعالیٰ خوشگوار ہوا چلائے گا اور وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا وفات پا جائے گا اور صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی بھلائی نہیں۔وہ اپنے آباؤ اجداد کے مشرکانہ دین کی طرف لوٹ جائیں گے اور پھر لات و عزمی کی دوبارہ پرستش شروع ہو جائے گی۔(مسلم کتاب الفتن : ۵۱۷۴) علامہ ابن حیان سورۃ الصف کی آیت يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ کے متعلق لکھتے ہیں کہ ابن عباس کو ابن زید نے کہا کہ اطفائے نور سے مراد یہاں یہ ہے کہ وہ قرآن کا ابطال کریں گے اور اس کی تکذیب فوری طور پر کرنا چاہتے ہیں۔سُدی کہتے ہیں کہ وہ اسلام کو کلام کے ذریعہ رڈ کرنا چاہتے ہیں۔ضحاک کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ جھوٹی خبریں پھیلا پھیلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہلاکت چاہتے ہیں۔ابن انبار کہتے ہیں کہ وہ اپنی تکذیب کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے دلائل کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔ابن عباس نے اس آیت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ وحی الہی چالیس دن تک موقوف رہی تھی۔تو کعب بن اشرف نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہود یو! خوشخبری ہو کہ اللہ نے محمد کے نور کو جو اس پر