خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 46

خطابات طاہر جلد دوم 46 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء اسلام آباد جو یہاں لیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانات کا ایک نشان ہے۔جن حالات میں اسلام آباد ہمیں ملا، ہماری امیدوں ہماری کوششوں کے بالکل برخلاف اچانک یہ آیا ہے اور اس سے پہلے جتنی کوششیں کی گئیں اس سے بہت ادنی جگہیں حاصل کرنے کی کیونکہ یہاں بڑی جگہیں ملتی ہی نہیں ہیں ملتی ہیں تو وہاں تعمیرات کے حقوق نہیں ملتے اس لئے ساری جماعت لگی ہوئی تھی ، دن رات کوشش کر رہی تھی ہمارے انگریز احمدی بھی اور مقامی بھی لیکن جہاں ہاتھ ڈالنے کی کوشش بھی کرتے تھے ناکام ہو جاتے تھے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ تقدیر رکھی تھی کہ ہم یہاں ضرور پہنچیں گے آخر اچانک یہ جگہ نکلی ہے اور اچانک خدا تعالیٰ کے فضل سے حالات پیدا ہوئے اور ہمارا سودا بھی ہو گیا اور جس وقت تک ہم یہاں پہنچے ہیں اس سے پہلے پہلے رقم بھی اکٹھی ہو چکی تھی خدا کے فضل کے ساتھ۔یہاں بھی خدام نے اور بجنات نے جو خدمت کی ہے آپ کے آنے سے پہلے، آپ کو تکلیف تو شاید ہوگی ، جب اکھڑتا ہے انسان گھر سے تو دوسری جگہ تکلیف ہوتی ہے۔اچھے ہوٹلوں میں بھی بعض دفعہ ہوتی ہے لیکن اس تکلیف کو آپ محسوس نہ کریں کیونکہ آپ سوچ نہیں سکتے کہ کیا جگہ تھی جو کیا بنا دی گئی ہے۔بوڑھوں ، بچوں نے ، ایسوں نے جو دل کے مریض تھے اور ہیں اور اُن کے سپرد میں نے یہ کام کیا ہوا تھا، اس وقت تک وہ کام کرتے رہے جب ڈاکٹروں نے زبردستی ہسپتال بھجوایا ہے اور کہا ہے کہ زندگی کا خطرہ ہے اگر اب تم باز نہیں آؤ گے تو مر جاؤ گے اور جوان خود اپنے خرچ پر بڑی بڑی دور سے آتے تھے، یہ معمولی کام نہیں ہے انگلستان میں اکٹھے ہونا۔یہاں تو شام کے لئے اکٹھا ہونا بھی ایک بڑا کام ہے۔تو دوسری بستیوں سے، دوسرے قصبات سے یہاں پہنچتے تھے اور خدمت کرتے تھے۔4521 گھنٹے انہوں نے یہاں کام کیا ہے تب اسے رہائش کے قابل بنایا ہے اور مجھے یہ خطرہ تھا کہ یہاں صحت کے محکمے اور دوسرے محکمے جو جائزہ لیتے ہیں کہ یہ جگہ انسانی رہائش کے قابل ہے یا نہیں ہے وہ اس کو پاس نہیں کریں گے، وقت تھوڑا تھا اور یہاں کے معیار بہت سخت ہیں چنانچہ ایک ٹیم آئی باقاعدہ اور انہوں نے اس کا معائنہ کیا تو حیران رہ گئے کہ یہ کیا ہوا ہے، وہ کہتے تھے کہ یہ کوئی جناتی کا رروائی ہے، ہو کیا گیا ہے یہ؟ چنانچہ ایک صاحب نے کہا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ مجھے پتا نہیں ہے، میں چھپ کر کھڑکیوں سے جھانک کر یہ ساری جگہ دیکھ گیا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اس جگہ کو