خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 464
خطابات طاہر جلد دوم 464 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔اس چشمہ سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو د وحق تم پر قائم کئے ہیں ان کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کرو۔ان میں سے ایک خدا کا حق ہے دوسر مخلوق کا۔“ پس اگر آپ چاہتے ہیں کہ خدا آپ کو توفیق عطا فرمائے کہ اس چشمے سے پانی پیئیں اور سیراب ہوں اور دنیا کو سیراب کریں تو دعاؤں کے ساتھ عملاً بھی یہ پاک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کریں۔ہمہ وقت اس بات پر نظر رہے کہ کیا ہم خدا کا حق ادا کر رہے ہیں یا نہیں اور اس حق کا طبعی نتیجہ یہ ہے کہ اس کی مخلوق کا حق بھی ادا کرنے والے ہوں۔فرماتے ہیں:۔”اپنے خدا کو وَحْدَهُ لا شَریک سمجھو جیسا کہ اس شہادت کے ذریعہ تم اقرار کرتے هو أَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا الله یعنی میں شہادت دیتا ہوں کہ کوئی محبوب مطلوب اور مطاع اللہ کے سوا نہیں ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۳۶) تمام دنیا کو لا الہ الا اللہ کے نعروں سے بھر دو۔ایسے نعرے جو فلک شگاف بھی ہوں۔مگر آپ کے دلوں میں بھی خدا کی خاطر وہ شگاف پیدا کر دیں جن میں خود خدا اتر آئے۔اگر آپ ایسا کریں گے تو ابد الآباد کی زندگی پائیں گے۔کوئی دنیا میں نہیں ہے جو آپ کو ہلاک کر سکے۔اب میں افتتاحی خطاب کے بعد جو دعا ہونی ہے اس دعا کے بعد رخصت چاہوں گا۔کل انشاء اللہ تعالیٰ وہ دن چڑھے گا جب تمام سال میں اللہ تعالیٰ کے اترنے والے فضلوں کا ذکر ہوا کرتا ہے اور امید ہے کہ وہ ذکر آپ کے دل بھر دے گا۔انشاء اللہ آئیے اب افتتاحی دعا میں شامل ہو جائیں (دعا)۔آمین یہ موسلا دھار بارش جس کا آپ شور سن رہے ہیں میں اسے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نشان کے طور پر دیکھ رہا ہوں۔جن فضلوں کا میں نے ذکر کیا ہے آپ دیکھیں گے کہ اسی طرح موسلا دھار فضل آسمان سے اتریں گے۔کوئی شامیانہ ان کو روک نہیں سکے گا۔تمام دنیا میں احمدیت کو یہ فضل سیراب کرنے والے ہیں اور آپ یقین رکھیں جیسا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم عنقریب اپنے اللہ کے فضل کے ساتھ ان فضلوں کو اترتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔اگر چہ اس سے پہلے بھی دیکھ چکے ہیں