خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 454

خطابات طاہر جلد دوم 454 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء اخراجات پورا کرنے کی توفیق پائی۔ملاقات کے دوران بعض غرباء نے مجھے بتایا کہ ان کا کوئی عزیز رشتہ دار باہر ایسا نہیں جس نے ان کی یہاں آنے کے سلسلہ میں مالی مدد کی ہو بلکہ لمبے عرصہ تک وہ تنگی ترشی سے گزارا کرتے ہوئے کچھ رقم بچاتے رہے تا کہ جلسہ میں شمولیت اختیار کر سکیں اور آخر خدا تعالیٰ نے انہیں یہ توفیق عطا فرما دی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد ایک گہری برکت رکھتا ہے۔جو لوگ لہی سفر کا ارادہ کریں ان کو چاہئے کہ وہ اپنے امیر رشتہ داروں سے خواہ وہ پاکستان کے ہوں یا باہر کے مدد نہ مانگیں بلکہ خود مسلسل قربانی کے ساتھ کچھ نہ کچھ پس انداز کریں للہی سفر کا جو ثواب اس صورت میں عطا ہو سکتا ہے ویسا ثواب کسی اور صورت میں عطا نہیں ہوسکتا۔یہ بھی یاد رکھیں کہ خدا کی راہ میں ایک انسان جب دوسروں سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خود اس کی ضرورت پوری کر دے تو اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا کفیل ہو جاتا ہے۔غیب سے اس کی مدد فرماتا ہے۔بہت سے واقعات میں سے کینیڈا کے ایک دوست عبد الحفیظ صاحب کا ایک واقعہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔انہوں نے کینیڈا میں مستقل رہائش کے لئے درخواست دی تھی اور سماعت ۱۳ جنوری ۱۹۹۸ء کو مکمل ہوئی ، کہا گیا کہ فیصلہ کی اطلاع آپ کو ڈاک کے ذریعہ بھیجی جائے گی۔انہوں نے مجھے دعا کے لئے فیکس دیا ، اسی پر اکتفا کیا اور کوئی انتظامی درخواست نہیں دی کہ ہماری اس بارہ میں مدد کی جائے۔امیگریشن آفیسر کی طرف سے ۲۲ اپریل کی مرسلہ چٹھی ملی کہ آپ کی درخواست نامنظور کی جاتی ہے۔اس اطلاع سے پریشانی ہوئی ، اپیل کے لئے ایک ماہ کا عرصہ دیا گیا۔اس موقع پر ایک فیملی کی طرف سے خاکسار کو یہ کہا گیا کہ آپ روزانہ تبلیغ کرتے ہیں اس لئے آپ نیشنل امیر سے کہیں کہ میں ہر روز آپ کا کام کرتا ہوں آپ امیگریشن کو میری مدد کے لئے متوجہ کریں مگر وہ لکھتے ہیں میں نے جواب دیا کہ میں لوگوں کو رب کی طرف بلاتا ہوں یہ کام امیر صاحب پر احسان نہیں ہے۔اس نے کہا اللہ کریم نے بھی آپ کی کوئی مدد نہ کی۔اس کا یہ کہنا گویا اللہ تعالیٰ کی غیرت کیلئے ایک چیلنج تھا۔میں نے کہا ہم اللہ کو پکاریں گے اور اسی کو پکاریں گے اور انشاء اللہ ضرور کامیابی ہوگی۔دو دن تک ہم سب نے دعا کی۔چار مئی کو ہماری وکیل کا فون آیا کہ دفتر کی غلطی سے آپ کو غلط فیصلہ سنایا گیا تھا۔چنانچہ ۴ رمئی کو ترمیم شدہ فیصلہ آگیا کہ آپ کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔اب یہ ہے اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والوں کا ، خدا تعالیٰ پر بھروسہ