خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 421 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 421

خطابات طاہر جلد دوم 421 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء عیسائیت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس سال میں خاص توجہ تھی اور جیسا کہ میں نے آج خطبے میں بیان کیا تھا۔جھوٹے خداؤں کا سر توڑنے کے لئے ۱۸۹۷ ء کا سال ایک نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔اسی سال ۱۹۹۷ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے Christianity-A journey from facts to fiction لکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔یعنی لکھنے کی تو پہلے تو فیق عطا فرمائی تھی مگر چونکہ اس کی دوبارہ اشاعت کا مطالبہ تھا اس لئے انگریزی زبان میں اسی سال یہ دوبارہ شائع کی گئی تھی۔اس سال میں جہاں روحانی طور پر انسانوں کی صحت کی خدمت کی توفیق ملی۔وہاں بدنی طور پر بھی ان کی صحت کی خدمت کی توفیق ملی اور ہومیو پیتھی جلد اول کا نظر ثانی شدہ نسخہ جو جلسہ انگلستان کے اختتام سے پہلے احباب کے ہاتھوں تک پہنچ چکا ہو گا وہ لکھنے کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دنیا کے بعض چوٹی کے ہومیو پیتھس نے مجھے لکھا کہ جس رنگ میں آپ نے یہ کتاب لکھی ہے۔اس سے پہلے ہومیو پیتھی پر ایسی کتاب نہیں لکھی گئی اور پاکستان کے جو ہو میو پیتھی کے بعض علاقہ کے صدر ہیں غالباً سارے پاکستان کے بھی ہیں ان کا مجھے خط ملا اور اُنہوں نے بھی یہ لکھا کہ جس رنگ میں آپ آج ہو میو پیتھی سے ہمیں مستفیض کر رہے ہیں، جو پاکستان کی کونسل کے صدر ہیں، اُس کے متعلق وہ کہتے ہیں میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں آپ سے بیان کر سکوں مگر میرے سارے ساتھی آپ کے خطبات سے جو ہومیو پیتھی پر مشتمل ہیں۔یعنی ان کی مراد تقریریں تھیں ان سے مستفیض ہو رہے ہیں اور ہم کئی دفعہ اکٹھے مل کر ٹیلی ویژن پر ان باتوں کو سنتے ہیں اور آپس میں یہ کلام کرتے ہیں کہ بہت کتابیں پڑھیں مگر یہ باتیں پہلے نظر نہ آئیں۔جو باتیں ان کو پہلے نظر نہ آئیں وہ دراصل مذہب سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں۔میں نے ہومیو پیتھی کو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے اور ایسے قطعی شواہد پیش کئے ہیں کہ اگر ہو میو پیتھی میں کوئی جان ہے۔تو لاز م ہمارا ایک خدا ہے اور خدا کے وجود کے سوا ہومیو پیتھی کا کوئی وجود ممکن نہیں۔بہر حال اس کی تفصیل میں میں نہیں جاتا۔مگر میں غیروں کی گواہی بتارہا ہوں کہ ان کے مطالبہ کے پیشِ نظر اُس کو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک عمدہ کتابی صورت میں ڈھالا گیا ہے اور اُمید ہے کہ ہر گھر میں یہ کتاب ان کے لئے ایک خاندانی ڈاکٹر کی حیثیت اختیار کر جائے گی۔لندن میں تو میرا یہی تجربہ ہے کہ جن لوگوں نے اس سے استفادہ کیا ہے۔اُن میں سے اکثر خاندانوں کو کبھی ہسپتالوں میں جانے کی