خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 364 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 364

خطابات طاہر جلد دوم 364 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء کر اتریں گے۔یہ وہ عقیدے ہیں جن کی طرف یہ احمدیوں سے ڈرا کر دنیا کو بلا رہے ہیں۔آپ تھوڑی سی تو عقل کریں دیکھیں تو سہی کہ آپ کو کس طرف بلایا جارہا ہے۔جماعت اسلامی یہاں آئی ہوئی ہے، آج کل ان کا بڑا چرچہ ہے۔ان کی بڑی کتابیں ترجمے کر کے امریکہ نے مختلف یونیورسٹیوں میں رکھوائی ہوئی ہیں۔ایک زمانے میں امریکہ کی پوری حمایت ان کو حاصل تھی اور امریکہ کے خرچ پر ان کی کتب کے تراجم کر کے عرب ممالک میں پھیلائے گئے ، انگلستان اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں رکھائی گئیں۔یہ ہیں وہ خاص طور پر امریکہ کے غلام اور نمائندے جو جماعت احمدیہ پر برٹش ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ان کا کیا حال ہے مودودی اپنی تفسیر و تفہیم القرآن میں لکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تفہیم القرآن اسلام کے دشمنوں کو اتنی عزیز ہے کہ مختلف لائبریریوں میں رکھوائی جاتی ہے۔دیباچہ صفحہ ۲۵ پر لکھا ہے: قرآن مجید میں نہ تصنیفی ترتیب پائی جاتی ہے نہ کتابی اسلوب“ یعنی مودودی کو تو تصنیفی ترتیب نصیب ہوگئی اور اس کی کتب کو تو کتابی اسلوب نصیب ہو گیا مگر اللہ کو نہیں پتا تھا ک تصنیفی ترتیب کیا ہوتی ہے اور کتابی اسلوب کیا ہوا کرتا ہے۔اور اسلام کا کیا تصور ان کے ذہن میں ہے اسلام کا سیاسی نظام بحوالہ طلوع اسلام ۱۹۶۳ء صفحہ ۱۳ پر لکھا ہے۔مودودی صاحب کا فتویٰ سن لیجئے ! اسلام فاشزم اور اشتراکیت سے مماثل نظام ہے۔اسلام کیا ہے؟ اشتراکیت اور فاشزم کو جوڑ لو تو ان کے بطن سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ اسلام ہے۔جس میں خارجیت اور Anarchism تک کی گنجائش موجود ہے۔یعنی اسلام اتنا وسیع پھیلا ہے کہ یہ ایک طرف تو فاشزم اور اشتراکیت یعنی کمیونزم سے ترتیب پاتا ہے، ان سے ملکر یہ عجیب الخلقت چیز ظاہر ہوتی ہے اور دوسری طرف اس میں اتنی وسعت ہے کہ انار کی بھی پائی جاتی ہے۔کوئی بدنظمی اور ہر طرح سے مطلق العنانی کی بھی گنجائش اسلام میں موجود ہے اور خار جیت بھی اس کے اندر پنپ سکتی ہے۔اور حقیت جہاد میں لکھتے ہیں کہ : در محضرت علی نے قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کر دیا