خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 363
خطابات طاہر جلد دوم 363 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۴ء کرتے پھر رہے ہیں سب دنیا میں کہ احمدی کے قریب نہ جانا، یہ تمہیں گمراہ کر دیں گے۔آج کتنے ہی بوسنین بیٹھے ہوئے ہیں اور باہر بھی سن رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کو پیغام دے رہے ہیں کہ اسلام سے مرتد اور باہر اور تمام عالم اسلام کی رو سے احمدیوں کا کوئی اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔سیہ ان لوگوں کا مذہب ہے، اس کی طرف آپ کو بلا رہے ہیں۔احمدیت آپ کو اندھیروں سے روشنی کی طرف دعوت دے رہی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو روشنی سے پھر آپ کو اندھیروں کی طرف لوٹانا چاہتے ہیں۔خود فیصلہ کریں، اپنی عقل سلیم کے حوالے سے فیصلہ کریں کہ آپ کو روشنیوں میں بیٹھنا منظور ہے یا اندھیروں میں لوٹ کر ہمیشہ کے لئے گمراہ ہوجانا منظور ہے۔پھر حریت الطالبین اور حق الیقین مجلسی باب صفحہ ۵ پر لکھا ہے: " حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمیع انبیاء سے افضل ہیں۔اگر 66 حضرت علی شب معراج میں نہ ہوتے تو محمد رسول اللہ کی ذرہ بھی قدر نہ ہوتی۔“ یہ کفر کا کلمہ ، یہ بے حیائی، گستاخی کا کلمہ ان کی کتب میں خوب اچھی طرح راہ پاچکا ہے۔مسلمہ مصنف یعنی ایسی کتابوں میں جو سند کا حکم رکھتی ہیں ان میں جگہ پائے ہوئے ہے اور کسی کو جرات نہیں ہے کہ ان کے متعلق یہ اعلان کرے کہ یہ گستاخ رسول یا مشرک لوگ ہیں۔دین کہاں گیا ؟ یہ سب سیاست کی جھوٹی باتیں ہیں، یہ حکومت پر آ کر غالب آنے کی تمنا ئیں ہیں۔جن کو پورا کرنے کے لئے تم نے اسلام کی چھاتی پر قدم رکھ دیا ہے مگر خدا یہ برداشت نہیں کرے گا۔تمہیں اسلام کو روندتے ہوئے کسی طرف کوئی ترقی نصیب نہیں ہوگی تم ذلتوں کے گروہ میں ضرور لوٹائے جاؤ گے کیونکہ ایسے لوگوں سے ہمیشہ خدا کی تقدیر یہی سلوک کیا کرتی ہے۔اور پھر قرآن کی حفاظت کا نام لیتے ہوئے احمدیوں پر الزام ہے کہ تحریف معنوی کی ہوئی ہے اور ان کا عقیدہ انبات الخلافہ تفسیر جلد مصنفہ علی الحائری تفسیر صافی جلد ۲۲ صفحہ ۴۱۱ پرلکھا ہے: اصل قرآن امام مہدی کے پاس ہے جو چالیس پارے کا ہے۔موجودہ قرآن بیاض عثمانی ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔“ حضرت عثمان نے جو بیاض پیش کی ہے وہ وہ قرآن ہے لیکن اصل قرآن چالیس پارے کا تھا جو امام مہدی کے پاس محفوظ ہے۔جب وہ اتریں گے جہاں سے اتریں گے تو قرآن ساتھ لے