خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 33

خطابات طاہر جلد دوم 33 33 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء کئے ، بچوں نے اپنی مائیں پیش کیں، اپنی جائیدادیں، اپنے اموال، اپنی عزتیں سب کچھ احمدیت کی خاطر میرے قدموں میں نچھاور کرنے کے لئے تیار بیٹھے تھے اور جن کو توفیق ملی انہوں نے اس عہد کو نبھایا اور ایک بھی پیچھے نہیں ہٹا۔یہ عہد کئے کہ آپ جس ضرورت کے لئے جب چاہیں گے، جو کچھ کہیں گے ہر وقت حاضر ہیں۔تو کائنات کا خدا میرے ساتھ تھا، کائنات کا خدا ہمارے ساتھ تھا، آپ کے ساتھ تھا اور یہ اُسی کی شان تھی ، اُسی کی تقدیر تھی جو جاری ہوئی اور وہ جو اس خدا کے تعلق والے تھے وہ اُس کی خاطر سب میرے اردگرد حضرت اقدس محمد مصطفی کے جھنڈے کے اردگرد اکٹھے ہو گئے۔کچھ کو خدمتوں کی توفیق ملی اور انہوں نے اپنے عہدوں کو پورا کیا، کچھ منتظر تھے اور آج بھی منتظر ہیں لیکن میں آج یہ یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ساری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک بدن کی طرح، ایک جان کی طرح، ایک مٹھی کی طرح قوم واحد تھی اور آج بھی قوم واحد ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ اور وہ ساری طاقتیں جو انتشار پھیلانا چاہتی تھیں، جو ہمیں منتشر دیکھنا چاہتی تھیں وہ آپ انتشار کا شکار ہوئیں، وہ آپ منتشر ہوئیں، ان کے اپنے گھروں میں جوتیوں میں دال بٹے گی۔بڑے بڑے عجیب نظارے ہم نے اس کیفیت کے دیکھے اور دن بدن خدا تعالیٰ ہمارے حوصلے بڑھاتا رہا اور ہماری امیدوں کو سر بلند فرما تا رہا۔ایک عجیب داستان ہے جو میں آج آپ کو سنانے لگا ہوں۔سب سے پہلے تو مجھے انگلستان پہنچ کر اپنا ڈاک کا دفتر بنانا تھا اور آپ جانتے ہیں یعنی آپ میں سے اکثر جانتے ہیں کہ اس کثرت سے ڈاک موصول ہوتی ہے خلیفہ وقت کو کہ پاکستان میں تو 700 تقریباً اوسط بنتی تھی روزانہ اور اُن میں ایسے ایسے خطوط بھی تھے جن کے تفصیلی جواب دینے پڑتے تھے ، پھر بہت سے ایسے ہوتے تھے جن میں غور و خوض کرنا پڑتا تھا اور کافی دماغ سوزی سے کام لینا پڑتا تھا اور اس کے لئے مدد کے طور پر ایک پورا عملہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کا میرے ساتھ رہتا تھا اور سلسلہ کے دوسرے کارکنان بھی تھے اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کا یہ عملہ اور حفاظت کے کارکنان جو ساتھ تھے یہ ملا کر ایک سو سے زائد کا عملہ تھا، تو مجھے سب سے پہلے تو یہ فکر ہوئی کہ فوری طور پر یہاں ایک دفتر قائم کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام دفتر رضا کار انصار پر مشتمل تھا اور آج بھی اسی طرح چل رہا ہے۔چار واقفین مبلغین رفتہ رفتہ ہم نے بیچ میں شامل کر لئے اور اس وقت جو اس دفتر