خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 309
خطابات طاہر جلد دوم 309 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء سزادی، جب انہوں نے ڈش انٹینا کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کی۔اس کی ایک مثال سندھ کی ایک چھوٹی سی غریب جماعت کی مثال کے طور پر میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں کہ۔” جب ہم نے ڈش انٹینا لگایا تو جماعت میں جان پڑنی شروع ہوئی ، جو لوگ پہلے اردگرد جارہے تھے وہ ایک دم اکٹھے ہو کے آگئے ، یہاں تک کہ کثرت سے غیر احمدی مخالفین آکے باقاعدہ خطبہ سننے لگے۔اس کے نتیجے میں حسد کی آگ اور بھڑک اٹھی اور گاؤں کا مولوی جو شرارت میں پیش پیش تھا، اس نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور اعلان کیا کہ اب تو یہ سب کو بے دین کر کے چھوڑیں گے۔( یعنی ان کے خیال میں ) اس لئے ایک ہی علاج ہے کہ حملہ کرو، ان کی اینٹ سے اینٹ بجادو، ڈش انٹینا کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو تا کہ یہ اپنے امام کی آواز اور تصویر ہمیں نہ دکھا سکیں۔( اس اعلان کے نتیجے میں لوگ اکٹھا ہونے شروع ہوئے ، ابھی اکٹھے نہیں ہوئے تھے ) اس نے اعلان کیا کہ اگلے جمعہ کو یہ پروگرام ہوگا ، دور دور تک پیغام پہنچا ؤ سب اکٹھے ہو جاؤ۔جس دن لوگوں نے اکٹھے ہونا تھا اس دن اس کا بیٹا شدید بیمار ہو گیا اور ایسی شدید پیٹ میں تکلیف اٹھی کہ اس کو لے کر افراتفری میں وہ ہسپتال پہنچا۔24 گھنٹے کے اندر تڑپ تڑپ کر اس کے سامنے اس نے جان دے دی اور کوئی ڈاکٹر اس کو بیچا نہ سکا۔اس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ مولوی کا منصوبہ خاک میں مل گیا بلکہ لوگوں نے کہا یہ خدا کی تائید کا نشان ہے، اس لئے آئندہ بدنظر سے اس ڈش انٹینا کو نہیں دیکھنا۔اب یہ مولوی خود سخت بیمار ہے اور حالت اتنی دردناک ہے کہ باہر سے کسی بچے کے رونے کی آواز آئے تو چھینیں مار مار کر روتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، میرا دم گھٹ رہا ہے مجھے بچاؤ۔“ پس خدا کی تبشیر کی بھی عجیب شان ہے اور اس کے انذار کی بھی عجیب شان ہے۔تبھی قرآن کریم میں انبیاء کے ذکر کے ساتھ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا کا ذکر ملتا ہے۔