خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 310
خطابات طاہر جلد دوم 310 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء پس آپ بھی دنیا کو تبشیر بھی کریں اور انذار بھی کریں کیونکہ یہ دن تھوڑے ہیں اور بڑی بڑی بلائیں، ان بلاؤں نے دنیا کوگھیر رکھا ہے اور وہ وقت دور نہیں جبکہ آپ دنیا کو عالمی عذاب میں مبتلا ہوتا دیکھیں گے۔اس لئے اس عذاب سے پہلے کثرت سے انذار کریں اور دنیا کو متنبہ کریں کہ ایک ہی امن کی راہ ہے اور وہ اسلام کی راہ ہے۔اسلام کی وہ راہ ہے جو احمدیت نے دیکھی اور خدا کے قائم کردہ امام نے اسے دکھائی۔یہ محمد مصطفیٰ کی راہ ہے۔اس راہ پر آؤ گے تو بچو گے، ورنہ ہر طرف لٹیرے ہیں۔دنیا میں اور کہیں کوئی امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔پس اس کثرت سے لوگوں کو صرف تبشیر ہی کے ذریعے نہیں بلکہ انذار کے ذریعے بھی بلا ئیں چونکہ یہی سنت انبیاء ہے۔بنگلہ دیش کا ذکر کرتے ہوئے میں آپ کو بتاؤں کہ ہم نے جو آٹھ زبانوں میں ساتھ مسلسل ٹرانسلیشن کا انتظام کیا ہوا ہے یعنی ترجمے کا، اس میں پہلے بنگلہ دیش شامل نہیں تھا، بنگالی زبان شامل نہیں تھی۔آج سے دو دن پہلے، مجھے ان کی طرف سے فیکس موصول ہوئی کہ ہمیں بھی محروم نہ کیا جائے اور اس جلسے سے آئندہ بنگالی کو بھی ترجمے والی زبانوں میں شامل کر لیا جائے۔میرے خیال میں وقت بہت تھوڑا تھا اور ممکن نظر نہیں آتا تھا کہ اتنی جلدی کسی اور زبان کو ہٹا کر یہ انتظام کریں۔لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک بات ڈالی اور میں نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ یہ ضرور انتظام کیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے کہ۔پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی۔“ ( تذکرہ صفحہ: ۵۰۸) اور بنگال کی جماعت نے جس طرح اخلاص کے نمونے دکھائے ہیں، جس طرح بہادری کے اور سرفروشی کے نمونے دکھائے ہیں۔ان کا اول حق ہے کہ ان تک ان کی زبان میں پیغام پہنچے۔پس میں نے کہا کہ جب خدا نے فرمایا ہے کہ 'بنگالہ کی دلجوئی کی جائے گی۔تو میں کون ہوتا ہوں اس دلجوئی کی راہ میں حائل ہونے والا ، میں تو ادنی راہ کا ایک معمولی غلام ، خاک پا ہوں۔پس ضرور بنگالہ کی دلجوئی کی جائے گی۔پس آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے بنگال میں پہلی مرتبہ بنگالی زبان میں یہ آج کا خطبہ بھی نشر ہوا اور یہ جلسہ بھی نشر ہو رہا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ مستقلاً بنگالی زبان میں ان کو مخاطب کیا جاتا رہے گا۔